رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

کیا ریاست کی کوئی رِٹ ہے؟

جامعہ حفصہ کی طالبات کے ہاتھوں قحبہ خانہ چلانے کے الزام میں یرغمال بنائی گئی تین خواتین اور ایک چھ ماہ کی بچی کورہا کر دیا گیا ہے۔ شمیم اختر نے اخبار نویسوں کو بتایا ’ہمیں سفید رنگ کی رسیوں سے باندہ کر ننگے پاؤں جانوروں کی طرح گھسیٹتے ہوئے مدرسہ لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس بدسلوکی پر انہوں نے مدرسے کی انتظامیہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر ان سے یہ سلوک جاری رکھا گیا تو وہ ترکِ اسلام کر کے عیسائی مذہب اختیار کر لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ میری اس دھمکی پر ان سے ہونے والی بدسلوکی اور تشدد بند کر دیا گیا۔

آپ کی اس کے متعلق کیا رائے ہے؟ کیا پاکستان میں ریاست کی کوئی رِٹ ہے؟ کیا ملک میں موجود ہر شخص کو اجازت دے دی جائے کہ وہ مذہب کے نام پر کسی بھی فرد اور ادارے کے ساتھ کچھ کرلے؟ اس مسئلے پر حکومت کے ردِعمل کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

(اردو میں بھیجی جانے والی رائے ترجیحاً فوراً شائع کی جائے گی۔ اس کے لیئے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 3/28/07 10:45 AM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:309

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 4/1/07 11:25 AM GMT

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ مجھے وہ دن یاد آ رہے ہیں جب افغانستان میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ تب وہاں کے لوگوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ انصاف طلب کرنے مدا رس کا رخ کریں۔ مدارس کے طالبان ان کے اس اعتماد پر سو فیصد سے بھی زیادہ پورا اترے۔

آصف مینگل، کویٹہ

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 4/1/07 6:36 AM GMT

جنگل کا قانون ہے۔ جس سے دشمنی ہو الزام لگاؤ اور پکڑ کے مارو۔

mubashir، skardu

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 4/1/07 3:11 AM GMT

اگر یہ طالبات بھی بولنا بند کر دیں گی تو پھر کون بولے گا۔ اسلام کو بچانا ہے اور یہ صرف ان طالبات کا حق نہیں سب کا ہے کہ وہ اسلام کی خاطر آواز بلند کریں۔ ان طالبات نے جو کیا وہ قابل تحسین ہے۔ میں ان کو سلام پیش کرتی ہوں۔

bibi Abida، mansehra

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/31/07 1:13 PM GMT

اسلام تلوار سے نہيں پھيلا اسلام کردار سے پھیلا ہے۔ اسلام اس بات کی اجازت بھی نہيں ديتا کہ کسی انسان پر کوئی دوسرا جبر کرے۔ کسی کو قانون ہاتھ ميں لينے کا حق نہيں۔

موسی، کراچی

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/31/07 12:32 PM GMT

طالبات کا اقدام اگر غير شرعی ہے تو جو پہلے ہو رہا تھا کيا وہ شرعی تھا۔ لہذا آپ ِرٹ کی تو بات ہی نہ کريں۔

محمد راشد، اسلام آباد

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/31/07 10:58 AM GMT

جب تک انتظاميہ اور عدليہ ملک ميں آزادی حاصل نہيں کرتے ِرٹ کا سوال بے معنی ہے۔

عمر، قصو ر

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/31/07 10:51 AM GMT

يہاں کیے گئے کچھ تبصروں کو پڑھ کر ضمير جعفری کا يہ شعر ياد آ گيا کہ ۔۔۔
يہ دو دن ميں دنيا کو ’ کی‘ ہوگيا ہے
کہ ہر آدمی مولوی ہو گيا ہے

سيد رضا، surrey، برطانیہ

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/31/07 10:50 AM GMT

جیسا کہ سب جانتے ہیں ہمارا ملک اسلام کے نام پر آزاد ہوا اور اس کی آزادی میں مسلمانوں کا خون شامل ہے۔ جامعہ کی طالبات جو کر رہی ہیں وہ اچھا کر رہی ہیں۔

m.k.khan، karachi

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/31/07 10:14 AM GMT

بی بی سي اردو ڈاٹ کام پر عامر احمد خان کی آنکھيں کھول دينے والی رپورٹ ضرور پڑھ ليں۔
وقت رہتا نہيں کہيں چھپ کر
اس کی عادت بھی آدمی سی ہے

سيد رضا، surrey، برطانیہ

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/31/07 9:49 AM GMT

پاکستان ميں جن کی رٹ ہونی چاہيے ان کی رٹ ہے۔ عامر احمد خان کا تجزيہ آنکھيں کھول دينے کيليئے کافی ہے۔

عبدالستار خان، لندن

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/31/07 9:35 AM GMT

طالبات نے بالکل صحیح کيا ہے۔ جب حکومت سو جائے تو نجی ادارے ہی ايسی برائي کو ختم کر سکتے ہيں۔ کچھ لوگ تو یہاں پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں ليکن ا ن کے موقف کا کيا جو انٹرنیٹ تک رسائی نہیں رکھتے۔ جب ملک ميں فحاشی عام ہوگی تو ايسی کارروائي سے پاکستانی کافی خوش ہيں۔

اے -ايم رحما ن، اسلام آباد، پاکستان

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/31/07 9:05 AM GMT

60 سال گزرنے کے بعد بھی جب ہم یہ فیصلہ نہ کرسکیں کہ ہم نے کیا بننا ہے اور کون سا نظام اپنانا ہے تو ایسے ملک میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ ایسے ملک میں سب کی حکومت ہوتی ہے چاہے ڈنڈا راج ہی کیوں نہ ہو اور معمولی سے تشدد سے اسلام چھوڑنے کی بات کرنے والے سچے مسلمان نہیں ہوسکتے۔ اور ابھی ہمارے ملک میں یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ ہم کون ہیں۔

اے ایس خان، سوئیڈں

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/31/07 8:51 AM GMT

طالبات کو ايجنسی کے ہاتھوں استعمال نہيں ہونا چاہيے۔

shahnwaz، lahore

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/31/07 8:39 AM GMT

ميرے خيال ميں عوام کا کا م پوليس کو اطلاع کرنا اور وقت آنے پر گواہی دينا ہے نا کہ خود جج بن کر سزا ديں۔ اگر ايسا ہوگا تو سارا نظام درہم برہم ہو جائيگا۔

Kauser Baig، Hyderabad

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/31/07 8:23 AM GMT

يہ پاکستان ميں پہلی دفعہ نہيں کہ حکومت کے کنٹرول پر سوال اٹھا ہے۔ اس سے پہلے بھی قبائلی علاقوں ميں ايسے واقعات ہو رہے ہيں جن سے حکومت کے کنٹرول کو چيلنج درپيش ہيں۔ طالبات کا يہ عمل غير قانونی اور ان خواتین پر تشدد غير انسانی ہے۔ آخر ميں يہ کہ مسلمان سے پہلے انسان بننا ضروری ہے۔

حارث، لاہور

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔