رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

کراچی میں طوفان اور ہلاکتیں، آپ کا رد عمل

صوبہ سندھ کے وزیرِ صحت سردار احمد کا کہنا ہے کہ کراچی میں سنیچر کی شام تین گھنٹے تک جاری رہنے والے طوفانِ باد و باراں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو اٹھائیس سے زائد ہو گئی ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے چیف والینٹیئر رضوان ایدھی کا کہنا تھا کہ یہ افراد دیواریں، سائن بورڈ اور درخت گرنے، کرنٹ لگنے اور سڑک حادثات میں ہلاک ہوئے جبکہ کچھ طبعی اموات بھی ہوئی ہیں۔

اس طوفان میں زخمی ہونے والے دو سو سے زائد افراد کو، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں جناح، سول، عباسی شہید اور سعود آباد ہسپتالوں میں داخل کروایا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے جبکہ تاحال ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافد ہے۔ کراچی کے کئی علاقوں میں رات بھر بجلی کی فراہمی معطل رہی جس کے نتیجے میں لوگوں نے احتجاج بھی کیا۔

گزشتہ روز کی طوفانی بارش کے دوران شہر کی تمام اہم شاہراؤں پر آویزاں بڑے بڑے سائن بورڈ یا تو راہ گیروں پر گرے یا بجلی اور ٹیلی فون کی تاروں پر جس سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا۔ گزشتہ سال ہونے والی بارش میں بھی اسی طرح درخت اور سائن بورڈ گرے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف مہم شروع کی گئی تھی۔

گزشتہ روز سندھ کے محکمۂ داخلہ کے مشیر وسیم اختر نے کہا تھا کہ گرنے والی تمام بڑی ہورڈنگز کے مالکان کے خلاف غفلت کا مقدمہ دائر کیا جائےگا۔
تفصیل کے لیے کلک کریں
ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کے نقطہ نظر سے اور شہری کی حیثیت سے آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا آپ یا آپ کے رشتے دار کراچی میں رہتے ہیں؟ کراچی میں پیش آنے والے حالات کے بارے میں آپ جو بھی جانتے ہیں ہمیں لکھ بھیجیں۔

(ازراہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ تبصروں کی تعداد بڑھ جانے کے سبب صرف اردو میں ٹائپ کی جانے والی آراء شائع کی جائیں گی۔ اس کے لیئے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 6/24/07 12:43 PM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:119

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 6/25/07 5:30 PM GMT

ممکنہ طوفان کے پیشِ نظر جتنا ہو سکے سمندری علاقوں سے گریز کیا جائے اور اپنی حفاظت کا مکمل انتظام کرنا چاہیے۔

مجیب منصور ۔، کراچی، پاکستان

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/25/07 3:59 PM GMT

آج کل بارانِ رحمت کا دور دورہ ہے۔ ایسے وقت میں اللہ سے عافیت کی بھی دعا کی جائے اور ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کے لیے بھی دعا کی جائے۔ جو ہم سے بچھڑ کر بارش کی نظر ہوگئے ہیں ان کے لیے خصوصی دعا کا دامن نہ چھوڑا جائے۔

مجیب منصور، جامعہ حمادیہ فیصل کالونی کراچی

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/25/07 3:54 PM GMT

کراچی ميں جو نقصان ہوا اس پر دلی رنج ہے، اللہ رحم کرے۔ حکومت کراچی جو نقصان ہوا اس کا معاوضہ دے رہی ہے۔ اندرون سندھ جو بارش سے تباہی ہوئی ہے اس کا بھی ازالہ کیا جائے اور آئندہ کے ليے کوئی جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔

عارف جبار قريشی، ڈھورونا رو سندھ

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/25/07 3:39 PM GMT

شايد آپ اتفاق نہ کريں مگر ہم دیسی لوگ اور ہماري حکومتيں قدرتی آفات کو سنجیدگی سے نہيں ليتے۔ يہاں بھی جب ہم گوروں کو ايمرجنسی کی تياری کرتے ديکھتے ہيں تو ہنستے ہيں۔ پاکستان ميں تو ان چيزوں پر بات ہی کرنے سے لوگ آپ کا مذاق اڑانا شروع کرديں۔ باہر بھی چند ہی ديسی ہوں گے جن کے گھر ميں ايمرجنسی کٹ ہوگي اور انہوں نے گھر والوں سے کبھی ايمرجنسی پلان پر مشورہ کيا ہو۔ ويسے بھی جب زندگی کی کوئی پلاننگ نہيں تو مرنے کی پلاننگ کيوں؟

Ch Allah Daad، Mississauga

تجویز کنندہ 14 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/25/07 3:02 PM GMT

حکومت اور عوام دونوں کو ايسی صورتحال کا سامنا کرنے کے ليے تربيت کی ضرورت ہے۔ حکومت نام کی کوئی چيز نہيں، اس ليے يہ ذمہ داری بھی عوام کو اپنے سر لے لينی چاہيے۔ آج کل کوئی بھی قدرتی آفت اچانک نہيں آتي، اس ليے وارننگز کو سنجيدگی سے ليں۔ اگر سب لوگ طوفان کے چند گھنٹے سکون سے کسی محفوظ جگہ پر گزار ليتے تو بچ جاتے۔ بہت سے لوگ دوسروں کے مرنے کا تماشہ ديکھتے ہوئے خود شکار ہو جاتے ہيں۔

Muhammad Saleem، Toronto

تجویز کنندہ 11 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/25/07 2:34 PM GMT

دکھ اور مصيبت کی گھڑی ميں اہليان کراچی کو ايک دوسرے کی مدد کرنی چاہيے۔ جس طرح انہوں نے زلزلہ زندگان کی بڑھ چڑھ کر مدد کی تھي اور ان لوگوں کی تنقيد کی پرواہ نہيں کرنی چاہيے جو قدرتی آفات اور تباہی کے وقت بھی دل کی بھڑاس نکالنے اور جلی کٹی سنانے سے باز نہيں آتے۔
نديم احمد ، ويسٹن

غرباء کي اسي بےچارگي پر شاید کچھ سوچ کر اس قوم کے حال پر رحم کر ہي ديں۔ بس اس کے سوا اور کوئی مقصد بياں نہيں ہے۔

اے رضا

تجویز کنندہ 11 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/25/07 2:29 PM GMT

کراچی ايک لاوارث شہر ہے۔ بغير منصوبے کے صاحب اقتدار حضرات اپنی جيبيں بھرنے کی غرض سے اس کو نوچ نوچ کر پچھلے پچاس سال سے کھا رہے ہيں۔ کسی کو اس کی ترقی سے غرض نہيں۔ ان لوگوں کی سارے بلند و بانگ دعوے ايک ہی ہلکی سي قدرتی آفت ميں نماياں ہو کے سامنے آ جاتے ہيں اور اب کے بھی ايسا ہی ہوا۔ اگر خدانخواستہ کوئی بڑی آفت آتی تو کيا حال ہوتا۔ خدارا ملک کے بجٹ کے ستر فیصد ٹيکس دينے والے شہر کے ساتھ انصاف سے کام ليں اور اس شہر کے ساتھ سوتيلی اولاد والا سلوک بند کيا جائے۔

سيد عابد، ليورپول

تجویز کنندہ 14 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/25/07 2:10 PM GMT

ايک پينتاليس منٹ کے طوفان نے کراچی کو خوبصورت بنانے کے دعوے کرنے والوں کی قلعی کھول دي۔ اب بھی ٹی وی کوريج کے ذريعے امدادی کاموں کے جھوٹے دعوے اور جہاں بات نہ بنے وہاں سارا ملبہ کے ای ايس سی والوں پر ڈال دو۔ حضور يہ آئی ٹی کا دور ہے، اب ڈرامے نہيں چليں گے۔’يہ جو پبلک ہے يہ سب جانتی ہے، پبلک ہے‘۔

ابراہيم دانيال، ٹورونٹو / کينيڈا

تجویز کنندہ 11 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/25/07 1:56 PM GMT

خدا کی رحمت کو زحمت انسانون کی ناقص منصوبہ بندی اور نااہلی ہی بناتی ہے۔ ہر بات قدرت کے کھاتے ميں لکھنے سے پہلے ہميں اپنے گريبان ميں بھی ديکھنا چاہیے۔ يہ دو سو لوگوں کی ہلاکتوں کی ايف آئی آر کس کے خلاف درج کروائی جائے؟ جب سب کچھ خدا پہ چھوڑ دينا ہے تو خدا نے بھی ہميں اپنے حال پہ چھوڑ دينا ہے۔

نديم اختر، کراچی، پاکستان

تجویز کنندہ 12 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/25/07 1:28 PM GMT

ہمارے ملک کی عوام کی قسمت ہمارے حکمرانوں کے ہا تھوں ميں ہے۔

Jaweed Khanani، karachi، پاکستان

تجویز کنندہ 9 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/25/07 1:03 PM GMT

دکھ اور مصيبت کی گھڑی ميں اہليان کراچی کو ايک دوسرے کی مدد کرنی چاہيے۔ جس طرح انہوں نے زلزلہ زندگان کی بڑھ چڑھ کر مدد کی تھي اور ان لوگوں کی تنقيد کی پرواہ نہيں کرنی چاہيے جو قدرتی آفات اور تباہی کے وقت بھی دل کی بھڑاس نکالنے اور جلی کٹی سنانے سے باز نہيں آتے۔

Nadeem Ahmed، Weston

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/25/07 12:55 PM GMT

کراچی کی بارشوں سے جو جانی و مالی نقصان ہوا ہے وہ افسوسناک ہے۔ حکومت سٹی گورنمنٹ کو حفاظتی اقداما ت کرنے چاہيے۔ يہ ان کی ذمہ داری ہے۔ اس معاملے پر سياست کی بجائے عملی اقدامات کيے جائیں۔

عا رف جبار قريشی، ڈھورونا رو سندھ

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/25/07 12:45 PM GMT

لوگوں نے زلزلے اور سيلاب جيسی قدرتی آفات کی تباہ کاريوں پر قابو پا ليا ليکن ہم بارش جيسی رحمت سے ہونے والی ہلاکتوں کو خدا کے کھاتے ميں ڈال کر اور کچھ تسلي کے بيان وغيرہ دے کر اپنی ذمہ داری سے فارغ۔ ہر سال يہ تباہی ہوتی ہے اور ہر سال ہم تقدير کو الزام دے کر بری ہو جاتے ہیں۔ بھائی جس قوم کو خود اپنی حالت بدلنے کا خيال نہ ہو تو خدا بھی ايسی قوموں کو ان کے حال پر چھوڑ ديتا ہے۔

ظہير چغتائی

تجویز کنندہ 13 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/25/07 12:04 PM GMT

يہ ہلاکتيں آسمانی مصيبت نہيں بلکہ زمينی خداؤں کی غفلت کا نتيجہ ہے۔ صرف اڑتالیس منٹ کا طوفان اور سينکڑوں زندگيوں کا چراغ گل ہوگيا پھر بھی سکون ہے، سکون ہی سکون ہے۔ صورتحال قابو ميں ہے اور ذمہ داران اپنا کام کر رہے ہيں۔ ظاہر ہے غلام عوام ڈوب کر مرے يا دب کر حکام کو کيا فرق پڑتا ہے۔ البتہ اقتدار کو لاحق ہونے والا معمولی خطرہ بھی ملک کی سالميت اور جمہوريت کو خطرے ميں ڈال ديتا ہے۔

جانگڈا !!!، Karachi، پاکستان

تجویز کنندہ 14 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/25/07 11:51 AM GMT

یہ سب فضول باتیں ہیں کہ وہ ایسا کرلیتے تو ایسا نہیں ہوتا۔ دعا کریں صدقے دل سے کہ اللہ انہیں اِس پریشانی سے جلد باہر نکالے۔
فراز احمد، الخبر

محترم، بارشيں صرف کراچی يا پاکستان ميں ہی نہيں ہوتيں جو ہم دعائيں کر کے ذمہ داری سے فارغ ہو جائيں۔ دعا کے ساتھ ساتھ دوا بھی ضروری ہوتی ہے۔ اگر سارا کام دعاؤں سے ہی چلانا ہے تو حکومت پھر کس مرض کی دوا ہے؟ مغرب ميں اس سے کئی گنا زيادہ بارشيں ہوتی ہيں ليکن وہاں تو اس طرح کی ہلاکتيں نہيں ہوتيں۔ فرق صاف ظاہر ہے کہ وہ دعاؤں سے زيادہ دوا پر توجہ ديتے ہيں۔

ظہير چغتائی

تجویز کنندہ 18 لوگ

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔