رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

ساٹھ سال میں کیا ملا؟

برطانوی راج سے آزادی اور ایک نئے ملک کے قیام کی ساٹھویں سالگرہ پاکستان بھر میں انتہائی جوش و خروش سے منائی جا رہی ہے۔ کیلنڈر پر جونہی اگست کی چودہ تاریخ ہوئی تو دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر میں کئی جگہوں پر زبردست آتشبازی کی گئی جس سے آسمان جگمگا اٹھا۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے رہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ آزادی کے ساٹھ برسوں کے بعد پاکستان کو اور پاکستانی عوام کے ہر طبقے کو کیا ملا ہے؟ کیا ملک اس مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ہے جس کا خواب ساٹھ سال پہلے دیکھا گیا تھا؟

(ازراہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ تبصروں کی تعداد بڑھ جانے کے سبب صرف اردو میں ٹائپ کی جانے والی آراء شائع کی جائیں گی۔ اس کے لیئے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 8/14/07 10:44 AM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:195

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 8/15/07 5:34 PM GMT

پاکستان کا فرد واحد غير ذمہ دار ہے۔ آج جشن آزادی پر ہر شخص ہاتھ ميں باجا پکڑے يہ بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ديکھو آج اس ملک ميں ہميں باجا بجانے کی پوری آزادی ہے۔

murtaza saleem، lahore، پاکستان

تجویز کنندہ 7 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 8/15/07 5:28 PM GMT

اب حقيقي آزادی صرف اس طرح ہی حاصل ہوسکتی ہے کہ انتخابات ميں ووٹ کا صحيح استعمال کيا جائے۔ پاکستان کے ستر فیصد لوگ مايوسی کی وجہ سے اپنے ووٹ کا استعمال ہی نہيں کرتے۔ لوگوں ميں يہ شعور پيدا کيا جائے کہ ووٹ کی کيا طاقت ہے اور تحريک چلائی جائے۔ مفاد پرست اور مجرمانہ شہرت کے حامل اور قومی خزانہ لوٹنے والے لوگوں کو ووٹ ديکر پھر ظالم حکمرانوں کو اپنے اوپر مسلط نہ کريں۔ اگر کسی تحريک کے ذريعہ ان لوگوں میں شعور بيدار کرنے میں کامياب ہوگئے تو ہمارا مستقبل انتہائی شاندار ہوگا۔ اب پوری قوم کا مستقبل اس کے اپنے ہاتھ ميں ہے۔

رانا سليم ياسين رانا، طائف، سعودی عرب

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 8/15/07 5:20 PM GMT

ہم صرف غلام ہيں جنہيں انقلاب کا انتظار ہے۔

لطيف، اسلام آباد پاکستان

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 8/15/07 5:01 PM GMT

جی ہاں ملائيت سے چھٹکارا ہی اصل پاکستان ہوگا۔
نجيب الرحمان سائکو، Lahore-Pakistan

محترم بھائی نجيب سائکو صاحب کيوں کبوتر کی طرح آنکھيں بند کرنے کا مشورہ ديتے ہيں۔ پاکستان کی تاريخ گواہ ہے کہ ملاء اور ملٹری ايک ہيں، ان کا مفاد ايک ہے۔

محمد سرفراز، پيرس، فرانس

تجویز کنندہ 8 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 8/15/07 4:40 PM GMT

اگر آپ اپنےاندر موجود ’فوج فوبيا‘ کو چند لمحات کے لیے بھول کر سوچيں تو معلوم ہو جائے گا کہ پرويز مشرف حقيقي معنوں ميں پاکستان کو وہ بنانے کی تگ و دو کر رہے ہيں جو کہ قائد اعظم کا پاکستان تھا۔ جی ہاں ملائيت سے چھٹکارا ہی اصل پاکستان ہوگا۔
نجيب الرحمان سائکو، Lahore-Pakistan

فوج سے چھٹکارا حاصل کرليں، ملائيت سے چھٹکارا خود بخود مل جائے گا۔ يعنی ايک تير سے دو شکار۔

Muhammad Saleem، Toronto

تجویز کنندہ 7 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 8/15/07 4:35 PM GMT

اسی طرح ملک بھي قصوروار نہيں ہوتا۔ قصور حالات کا اور حالات پيدا کرنے والوں کا ہوتا ہے۔
شاہدہ اکرام، ابو ظہبی، متحدہ عرب امارات

برعکس اسکے، بمطابق راقم الحروف، حالات کو قصور وار ٹھرانا اصل ميں ہماری ہٹ دھرمي، ميں نہ مانوں، طاقتور انا، ضدی پن، جذبات پسندي، منطق سےعاري، سپورٹس مين شپ کی کمي، حقائق سے منہ موڑنا اور ہماری ناکامی جيسے احساسات و محسوسات کو چھپانے کی ايک غلط تکنيک ہے اور اس کو ہم ’انگور کھٹے ہيں‘ محاورہ سے باآسانی سمجھ سکتے ہيں۔

نجيب الرحمان سائکو، Lahore-Pakistan

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 8/15/07 4:34 PM GMT

اس ملک کی بدولت يورپ و امريکہ کي سير کر رہے ہيں۔ پھر بھي اپنے ملک کو اور جن ملکوں کا کھاتے ہيں انہیں برا بھلا کہتے ہیں۔
Abbas Khan، Cambridge

سولہ انے کھری بات کی آپ نے۔ آج مجھے چوتھی جماعت ميں پڑھی ہوئی کہاني’حقوق و فرائض‘ ياد آ گئی۔
ديدہ تر، لندن، برطانیہ

بہت درست بات کہی آپ نے۔ ہم صرف حقوق کی ہی بات کرتے ہيں۔ ملک کوئی ايک انسان نہيں جس کے حقُوق ايک اولاد نہ ادا کر سکی تو دوسری اولاد ادا کر دے گی۔ ايک خطۂ زمين ہوتا ہے جس پر سب کا حق ہوتا ہے ليکن قيام کے لیے فرض بھی لازم ہے۔

[shahidaakram]، ابُوظہبی، متحدہ عرب امارات

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 8/15/07 4:31 PM GMT

دن کو ديکھے خوابوں کا يہی حشر ہوتا ہے۔ لوٹنے والوں نے لوٹا اور خوب لوٹا۔ بيچنے والوں نے پانی بيچ ديا اور جانے کس کس کا بيانہ پکڑ رکھا ہے۔

Mian Asif Mahmood، Frederick, MD - U.S.A

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 8/15/07 4:25 PM GMT

يہاں تو شخصيت پرستی اور شخصيت کشی ہی کا رجحان غالب ہے۔
ديدہ تر، لندن، برطانیہ

ازراہ مہربانی دل مضبوط رکھيں، آپکے خيالات سو فيصدی درست ہيں:
وہ فراق ہو کہ وصال ہو، تری آگ مہکے گی ايک دن
وہ گلاب بن کے کھلے گا کيا جو چراغ بن کے جلا نہ ہو

نجيب الرحمان سائکو، Lahore-Pakistan

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 8/15/07 4:19 PM GMT

60 سال بعد بھارت ميں جمہوريت کی وجہ سے اقوام اور ان گنت اختلاف رکھنے والے گروہ صرف اور صرف جمہوری بھارت پر فخر کرتے ہيں اور متحد ہيں جبکہ ہم؟ ہم کس چيز پر فخر کريں؟ ہميں بنگلہ ديش پر فخر کرنا چاہيے، آخر ہم نے اپنی کوششوں سے ايک ملک سے دو ملک بنا ديئے۔

ظہير چغتائی

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 8/15/07 4:13 PM GMT

نہيں يہ وہ پاکستان نہيں جو قائد نے بنايا تھا۔ اس سے تو کہيں اچھا ہے ہندوستان مسلمانوں کے ليئے۔ يہ ملک فوج کو مبارک۔ نثار احمد جاويد، لندن، برطانیہ

اگر آپ اپنےاندر موجود ’فوج فوبيا‘ کو چند لمحات کے لیے بھول کر سوچيں تو معلوم ہو جائے گا کہ پرويز مشرف حقيقي معنوں ميں پاکستان کو وہ بنانے کی تگ و دو کر رہے ہيں جو کہ قائد اعظم کا پاکستان تھا۔ جی ہاں ملائيت سے چھٹکارا ہی اصل پاکستان ہوگا۔

نجيب الرحمان سائکو، Lahore-Pakistan

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 8/15/07 4:11 PM GMT

آزادی ملی انگريزوں سے مگر جسمانی، ذہنی نہيں۔ آج جو لوگ تقسيم کے خلاف بات کرتے ہيں ان کو معلوم ہونا چاہيے کہ تقسيم ناگزير تھی۔ کاش تقسيم نا ہوتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اب ذہنی آزادی بھی حاصل کريں اور متحد ہو کر اسکی آزادی اور خودمختاری پر کوئی آنچ نہ آنے ديں۔ ميرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثار ميں يہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمايہ تن۔

محمدسعيداحمد، بحرين

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 8/15/07 4:00 PM GMT

ساٹھ سال کے عرصے ميں ايک آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے۔ ليکن افسوف کے ہم آج بھی بچے ہيں، کبھی چين کی انگلی پکڑ کر چلتے ہيں تو کبھی امريکہ کی۔

روزی شاہ بونيری، kl، ملائشیا

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 8/15/07 3:57 PM GMT

يہاں آپ انفرادی بات کر رہے ہيں يا اجتماعي؟ اگر اجتماعی ہے تو ننانوے فيصد جرنيل لکھيں، ننانوے فيصد وہ پاکستانی جو باہر ہیں اور ان کے بزرگ پاکستان ميں، وہ ننانوے فيصد يقيناً بہتر زندگی گزار رہے ہيں۔
ZULFIQAR MIAN، FAISALAD

جو بيرون ملک پيسے کما کر گھر بھيج رہے ہيں وہ بھی پاکستانی ہيں اور ننانوے فيصد وکيل، ڈاکٹر انجينئر، سياستدان، مولانا اور اساتذہ پچاس سال پہلے کی نسبت زيادہ خوشحال ہيں۔ پاکستان نے اتنے بھی ظلم نہيں ڈھائے جتنا واویلا کيا جا رہا ہے۔

ديدہ تر، لندن، برطانیہ

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 8/15/07 3:57 PM GMT

ان نااہل حکمرانوں نے غريب عوام کو وہ سرکاری ہسپتال ديئے جن ميں مفت دوائی اور علاج تو دور کی بات جعلی ڈاکٹروں کے ہزاروں روپوں کے نسخے پورے کرنے کے باوجود مريض شفاياب نہيں ہوتے۔ پوليس اور سرکاری سکولوں کی حالت انتہائی خراب کر دی گئی۔ اميد ہے کہ اس بار صحيح معنوں ميں باصلاحيت اور صحيح معنوں ميں تعليم يافتہ ليڈر کا انتخاب ہوگا۔

عمران، اسلام آباد

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔