وقت ارسال :
8/15/07 4:34 PM GMT
اس ملک کی بدولت يورپ و امريکہ کي سير کر رہے ہيں۔ پھر بھي اپنے ملک کو اور جن ملکوں کا کھاتے ہيں انہیں برا بھلا کہتے ہیں۔
Abbas Khan، Cambridge
سولہ انے کھری بات کی آپ نے۔ آج مجھے چوتھی جماعت ميں پڑھی ہوئی کہاني’حقوق و فرائض‘ ياد آ گئی۔
ديدہ تر، لندن، برطانیہ
بہت درست بات کہی آپ نے۔ ہم صرف حقوق کی ہی بات کرتے ہيں۔ ملک کوئی ايک انسان نہيں جس کے حقُوق ايک اولاد نہ ادا کر سکی تو دوسری اولاد ادا کر دے گی۔ ايک خطۂ زمين ہوتا ہے جس پر سب کا حق ہوتا ہے ليکن قيام کے لیے فرض بھی لازم ہے۔
[shahidaakram]، ابُوظہبی، متحدہ عرب امارات