رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

اوباما کے لیے امن کا نوبیل انعام

امریکہ کے صدر براک اوباما کو اس سال امن کے نوبیل انعام سے نوازا جائے گا۔

انعام جیتنے کی ’فیورٹس‘ میں زمبابوے کے وزیر اعظم مورگن چینگرائے بھی شامل تھے۔

نوبیل کمیٹی کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کو یہ انعام ’بین الاقوامی سفارتکاری اور اقوام کے درمیان تعاون کو مستحکم کرنے کی ان کی غیر معمولی کوششوں‘ کے لیے دیا جا رہا ہے۔

کیا امن کے نوبیل انعام کے لیے اوباما کا انتخاب صحیح ہے؟ اگر نہیں، تو آپ اس انعام کے لیے کس کا انتخاب کرتے؟

(ازراہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ تبصروں کی تعداد بڑھ جانے کے سبب صرف اردو میں ٹائپ کی جانے والی آراء شائع کی جائیں گی۔ اس کے لیے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 10/9/09 10:45 AM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:48

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 10/9/09 4:20 PM GMT

کیا نوبل امن انعام بھی کرکٹ کی طرح بکنے لگا ہے؟

Imran، Mardan

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/9/09 4:18 PM GMT

شاباش! ہميں تو داد دينی پڑے گی۔ اگر يہی حال رہا تو اگلا ايوارڈ اسرائيل کے صدر کو ملنا چاہيے۔
DOTANI lala، Quetta

صاحب يہ بھی اسرائيلی صدر کو ہی سمجھيے۔ امريکی صدر اور اسرائيلی صدر ميں کوئی فرق تھوڑی ہے۔

طيب عباس، فيصل آباد، پاکستان

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/9/09 4:12 PM GMT

ميرے خيال ميں يہ انعام صوبہ سرحد کے حکمران جماعت اور خان ازم کے علمبردار جماعت اے اين پی کو دينا چاہيے کيونکہ سوات ميں امن معاہدہ کر کے سوات کے بچے بچےکو طالب بنايا تھا۔

فضل خان، ابوظہبی

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/9/09 4:06 PM GMT

صفر سکور پر ميچ ابھی ابتدائی اوورز ميں ہے کہ فاتح کا اعلان ہو بھی چکا۔

اے رضا

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/9/09 3:55 PM GMT

اوباما ہی اس امن نوبل پرائز کے اصل حقدار تھے۔ ان کی پاليسياں مسٹر بش سے بلکل مختلف ہيں۔ انہوں نے تو امريکہ کا حليہ ہی بگاڑ ديا تھا بلکہ ميں تو کہوں گا دنيا کا حيلہ بھی بگاڑ ديا تھا۔ اوبامہ کا صرف آٹھ ماہ ميں يورپ، روس، ايران و مسلم دنيا کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا، عراق سے فوجيں واپس بلوانا اور جلد ہی افغانستان کی پاليسی بدلنا دنيا کو امن کے راستے پر گامزن کرنے کے مترادف ہے ۔حالانکہ سکيورٹی ايجنسياں کچھ اور کہتی ہيں اور وہ سچ کی تلاش ميں ہيں۔

محمد سرفراز، پيرس، فرانس

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/9/09 3:49 PM GMT

نوبیل کميٹی نے اوباما کو نوبل انعام کا مستحق قرار دينے ميں بہت عجلت دکھائی۔ امن کی باتيں کر لينا نہایت آسان مگر امن کی خاطر کچھ کر گزرنا بہت مشکل۔ اوباما کا امن پسندی کا تصور ابھی باتوں سے آگے نہيں بڑھا۔ عملی ميدان ميں بے نظير سبقت لے چکی ہيں۔

ن. ج.، بالٹی مور - ميری لينڈ

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/9/09 3:47 PM GMT

اوباما کے بجائے مجھے ملنا چاہیے تھا کیوں کہ میں ظلم سہتا ہوں کرتا نہیں۔
Mubasher Ahmed، Southall - London

‘دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظُلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا‘

مزید برآں، خاکسار کے گُرو کا کہنا ہے کہ سننے والے کا شوق ہی بولنے والے کو بولنے پر اُکساتا ہے۔ شکریہ۔

نجيب الرحمان سائکو، *لاہور* [P@KI$T@N]

تجویز کنندہ 7 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/9/09 3:45 PM GMT

نوبل انعام ہمیشہ سے اور ماضی قریب میں بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ سرد جنگ کے دوران ایسی شخصیات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا جن کا تعلق یا ہمدردیاں کہیں سے بھی سوویت یونین سے تھیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ نوبل انعام کمیٹی کا کیا معیار ہے۔ اوباما کو میں ضرور حقدار سمجھتا اگر وہ امریکیوں کو یورپ کی طرح مفت صحت کی سہولت دینے کا وعدہ پورا کر سکتے۔ مگر امن کا انعام؟جبکہ افغانستان میں اور فوج بھیجی جا رہی ہے؟ یہ امن کے ساتھ مذاق ہے۔

احسن رضا، Glasgow، برطانیہ

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/9/09 3:39 PM GMT

جس کی لاٹھی اس کی بھينس۔ کيا بات، اسے کہتے ہيں ہوائی کھانا يا بغير کاشت کے پھل۔ کيا دنيا ميں جابر حکمران ہی نوبل انعام کے لیے بچ گيا تھا۔ اب تو دنيا کو معلوم ہونا چاہيے کہ اس قسم کی تنظيمیں صرف چڑتے سورج کو سلام کرتی ہيں۔ يہ انعام پاکستانی عوام کو ملنا چاہیے تھا جو دنيا ميں امن کے لیے اپنے نوجوانوں کی قربانی دے رہی ہے۔

شاہد، لاہور

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/9/09 3:28 PM GMT

اگر امن نوبیل انعام اوباما کے بدلے زرداری کو ديا جاتا تو اچھا تھا کيونکہ اس نے اپنے دور حکومت ميں بلوچستان اور فاٹا کو امن کا کامياب گہوارہ بنايا ہے۔

Gazzin، Turbat

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/9/09 3:20 PM GMT

صدر اوباما کو يہ انعام ’بين الاقوامی سفارتکاری اور اقوام کے درميان تعاون کو مستحکم کرنے کی ان کی غير معمولی کوششوں‘ کے ليے ديا جا رہا ہے۔ جبکہ انہيں صدر بنے زيادہ دن نہيں ہوئے ہيں۔ کيا بش کی کوششيں معمولی تھيں؟ ميرے خيال ميں جس فارمولے کے تحت يہ انعام ديا گيا ہے اس ميں ٹاپ پر تو بش اور مش نظر آتے ہيں۔

ضياء سيد

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/9/09 3:14 PM GMT

اے لو، اقوام متحدہ کے بعد نوبیل کميٹی بھی کميٹی بھی ہائی جيک کر لی گئی ہے۔ فاختاؤں کو خبر ہو کہ اب غليل بردار کو نوبل پرائز کميٹی والوں نے لائسینس دے ديا ہے۔

ضياء سيد

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/9/09 3:09 PM GMT

ايک زمانے ميں سنا تھا کہ ’جس کی لاٹھی اس کی بھينس‘ اور ’چٹ بھی ميری پٹ بھی ميری‘۔ واقعی يہ طاقت ہی ہے جو کبھی براک اور کبھی حسين بنا دے يا صرف اوباما ہی کہلوا دے۔ بہرحال مبارک ہو، کس کی مجال کہ مبارک نہ ہو۔

علی نقوی، سڈ نی، آسٹریلیا

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/9/09 3:04 PM GMT

نوبیل امن انعام کسی کو بھی ملے وہ متنازعہ ہو سکتا ہے اور وہ لازمی نہیں کہ جس کو ملے وہ واقعی امن کا علمبردار بھی ہو۔ آج کل کے کسی بھی امریکی صدر کو کوئی بھی انعام دے دیا جائے اس سے دنیا کی نظر میں دھول نہیں جھونکی جا سکتی۔ تاریخ کی نظر میں ظلم ظلم ہی رہے گا۔ کل اگر بش کو نوبیل انعام دے دیا
جائے گا تو اس جوتے کو تاریخ کیسے بھولے گی جس کا سائز بش کو شائد ہی کبھی بھول سکے۔ مختصر یہ کہ امن قائم کر کے انعام لینا اور بات ہے اور دنیا کو دھو کہ دے کر کوئی کاغذی عزت حاصل کرنا کچھ اور۔

محمود بٹ.، بلنسیہ، ہسپانیہ

تجویز کنندہ 10 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/9/09 2:59 PM GMT

شاباش! ہميں تو داد دينی پڑے گی۔ اگر يہی حال رہا تو اگلا ايوارڈ اسرائيل کے صدر کو ملنا چاہيے۔

DOTANI lala، Quetta

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔