رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

ہیلری کی حیرانی

امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے پاکستان میں اپنے دورے کے دوران اگر ایک طرف پاکستان حکومت اور فوج کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو سراہا ہے تو دوسری طرف یہ بھی کہا ہے کہ انہیں یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سنہ دو ہزار دو سے القاعدہ کی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں محفوظ ہوں اور حکومت میں کوئی بھی یہ نہ جانتا ہو کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صحیح معنوں میں کوششیں کی جائیں تو القاعدہ رہنماؤں کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے اپنے دورے کے دوران بارہا پاکستانیوں کو یقین دلایا کہ امریکہ پاکستان کا دوست ہے اور اب وہ اسے تنہا نہیں چھوڑے گا۔ کیا وہ پاکستانیوں کے دلوں تک اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہوئی ہیں؟ کیا محبت کے پیغام کے ساتھ ساتھ ہیلری کلنٹن کی برہمی درست ہے؟

(ازراہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ تبصروں کی تعداد بڑھ جانے کے سبب صرف اردو میں ٹائپ کی جانے والی آراء شائع کی جائیں گی۔ اس کے لیے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 10/30/09 12:44 PM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:100

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 10/31/09 6:14 PM GMT

جب تک ہمارے حکمران ملک کے ساتھ مخلص نہيں ہوں گے عوام اسی طرح مرتے رہيں گے۔ اللہ پاکستان پر رحم کرے۔ جتنی محنت يہ لوگ ڈالر جمع کرنے کے ليے کر رہے ہيں اگر دل سے صرف پاکستان کے ليے کريں تو انشا اللہ پاکستان مشکل حالات سے جلد نکل جائے گا۔ اللہ ہم کو اچھے حکمران عطا فرمائے، آمين۔

Shahid Ahmed، Toronto

تجویز کنندہ 8 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/31/09 5:47 PM GMT

ہیلری کلنٹن کی آمد پر ہی تو پشاور ميں دھماکہ ہوا۔

وقارعلی، العين

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/31/09 5:00 PM GMT

ہيلری کا دورہ پاکستان کے لیے کچھ بھی ہو ليکن امريکہ اور پينٹاگون کے لیے کامياب ہی نہيں بلکہ شاندار رہا۔ جس روز پشاور والے اپنے پياروں کے جسموں کے ٹکڑے سميٹ رہے تھے، لاہور کے طلبا محترمہ کی آمد کی خوشی ميں ڈھول کی تاپ پر بھنگڑا ڈالے مست و مدہوش تھے۔ آپس ميں بے رخی اور بے حسی کا يہ روح افزا پيغام وہ پينٹاگون کے لیے لے کر جا رہی ہیں۔ کيا امريکہ کو اربوں ڈالر کی اس سے بہتر قيمت مل سکتی ہے؟

فضل سواتی، سوات

تجویز کنندہ 7 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/31/09 4:32 PM GMT

پاکستان دنيا کے ان ممالک ميں سے ايک ہے جن کی حکومتيں تو امريکہ کو پسند کرتی ہيں ليکن عوام کی اکثريت نہيں کيونکہ امريکہ يہاں کی حکومتوں کا تو خير سگال ہے ليکن عوام کا نہيں۔ امريکی وزير خارجہ ہيلری کلنٹن کا حاليہ خير سگالی کا دورہ پاکستان کامياب رہا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف امريکہ کے شانہ بشانہ کھڑی پاکستانی حکومت اور فوج کی سنجيدہ جنگی کارروائيوں کو سراہا۔ وہ برہم اس لیے ہيں کہ انہيں القاعدہ سميت غير قانونی تحريک طالبان کے خلاف جنگ جلد ختم ہوتی نظر نہيں آتی۔

حسين اشرف بخاری، بوسٹن

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/31/09 4:01 PM GMT

امريکی وزيرِ خارجہ کا پاکستان کے بارے ميں يہ کہنا کہ اب امریکہ اسے نہيں چھوڑے گا۔ دوستی ہے کہ دشمنی؟ امريکہ کی اس جنگ ميں سب سے زيادہ تباہی و بربادی تو پاکستانيوں کی ہوئی ہے۔ کيا اتنی بھينٹ کافی نہيں ہے۔ اب تو ہمارا پيچھا چھوڑ دوگ

ضياء سيد

تجویز کنندہ 9 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/31/09 3:58 PM GMT

يہ دورہ مشق لاحاصل کے مترادف ہے جس سے دل نہيں جيتے جاسکتے۔ محبت مصنوعی طور پر قائم نہيں کی جاسکتی۔

Dr Alfred Charles، Karachi

تجویز کنندہ 8 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/31/09 3:56 PM GMT

اب رياست کس کس سے لڑے جو خود ہی زخموں سے چور چور ہے۔
حسن عسکری، اسلام آباد

يہ تو بنياديں بناتے وقت سوچنا چاہيے تھا يا اس سے بھی پہلے خواب ديکھتے وقت۔

Ghalib ali، Prague، جمہویہ چیک

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/31/09 3:41 PM GMT

اسے کہتے ہيں دو رُخی پاليسی۔ وہ کہا جاتا ہے کنگھی کے ايک طرف دندانے اور زمانے کے دو طرف دندانے ہوتے ہيں۔ يا کچھ بھی نا کہا اور کہہ بھی گئے۔ بات ہے سمجھ کی سمجھا کريں نا۔ جو بين السطور کہا جا رہا ہے اور وہ جو نہيں کہا گيا وہ بھی۔ يعنی اندر کی بات جو دِل کے نہاں خانوں ميں کہيں تھی زبان پر آ ہی گئی ہے۔

مسز شاہدہ اکرم، ابُوظہبی، متحدہ عرب امارات

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/31/09 3:36 PM GMT

ايک طرف ہيلری نے پاکستانيوں کو يقين دلايا کہ امريکہ پاکستان کا دشمن نہیں ہے تو دوسری طرف پاکستان ميں القاعدہ کی موجودگی کی بات کر کے پاکستان کی توہين کی ہے۔
قربان علی سميجو، عمرکوت

پاکستان کی عزت کہاں کہاں کی جاتی ہے؟

Ghalib ali، Prague، جمہویہ چیک

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/31/09 3:27 PM GMT

ہيلری صاحبہ کی حيرانی يا تو ان کی معصوميت ہے يا اداکاری ورنہ جہاں تک پاکستان ميں رونما ہونے والے انتہا پسند اور دہشتگرد واقعات کا تعلق ہے تو سچ پوچھيں ہم اپنے ہی کھودے ہوئے گڑھے ميں خود گر رہے ہيں۔

يحےا خان کريسوی بلتستانی، کريس سکردو

تجویز کنندہ 8 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/31/09 3:13 PM GMT

جيو بی بی سی کے موڈريٹرز ہيلری کلنٹن سے زيادہ کام تو آپ لوگ کر رہے ہيں۔ مستقبل قريب ميں پاکستان کا ايک دورہ آپ لوگ بھی پھڑکا ليں شکريہ۔

نثاراحمد جاويد، london، برطانیہ

تجویز کنندہ 10 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/31/09 3:09 PM GMT

ہيلری کلنٹن کا دورۂ پاکستان بڑا خوش آئند رہا ہے۔ اس سے غير ملکی لوگوں کے پاکستان آنے کا راستہ ہموار ہوتا نظر آتا ہے۔ آئندہ بھی دیگر ممالک کی حکومتی وفود کو پاکستان آنے کا پيغام دينا چاہيے۔
محمد راشد، جدہ، سعودی عرب

اور اگر کوئی وفد ہیلری کلنٹن کے دورے کے دوران خودکش دھماکوں بالخصوص پشاور دھماکہ کے خدشات ظاہر کر کے پاکستان نہ آنا چاہے تو اسے یہ کہہ دینا چاہیے کہ یہ دھماکے نہیں تھے بلکہ ’اکیس توپوں کی سلامی‘ تھی اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔

نجيب الرحمان سائکو، *لاہور* [P@KI$T@N]

تجویز کنندہ 13 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/31/09 3:06 PM GMT

بہت سے پاکستانی ہيلری صاحبہ کے اس بيان پر برہم نظر آتے ہيں۔ اپنے زاويے سے ديکھا جائے تو يہ ناراضی بجا نظر آتی ہے کہ بظاہر ايک آزاد و خودمختار ملک جو دوسروں کے ساتھ برابری کی بنياد پر تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے اس کی انا اور وقار کو يوں ٹھيس پہنچائی جائے۔ ليکن دوستو! ياد رکھيں برابر کی دوستی يا پارٹنر شپ کے لیے دونوں پارٹيوں ميں مماثلث انتہائی ضروری ہے۔ کروڑوں والے کے کاروبارميں اس کا سگا بھی اگر لاکھ لگا کر برابر کا منافع مانگے تو وہ اسے تھپڑ لگا کر دوڑا دے گا کيونکہ اس طرح نوکری تو ہوسکتی ہے برابر کی شراکت نہيں۔

وحید عبدالوحید

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/31/09 3:01 PM GMT

’ہیلری کی حیرانی‘، بی بی سی۔ تو ہم کيا کريں ہميں بھی ان پر ان کے ملک پر اور ہمارے ملک کے بارے ان کی پاليسیوں پر بہت حيرانی ہے۔ اگر ميٹھی ميٹھی باتوں کی بجائے ہماری حيرانی دور کريں تو ان کی حيرانی خود بہ خود دور ہو جائے گی۔ يہ بھولی نہيں ہيں بلکہ بھولی بنی ہوئی ہيں۔

نثاراحمد جاويد، london، برطانیہ

تجویز کنندہ 17 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/31/09 2:46 PM GMT

تين ہزار امريکيوں کے خون کے انصاف کے بدلے اب تک کئی ملين معصوم انسان زندگی سے محروم کیے جا چکے ہيں۔
انور حسين

وہ معصوم کب سے ہوگئے جبکہ امريکہ نے معصوميت کا سرٹيفيکيٹ جاری نہيں کيا۔ يقين نہ آئے تو پاکستانی حکمرانوں سے پوچھ لو کہ ابھی صرف شدت پسند کا يا دہشتگرد ہی کا جاری ہوا ہے۔

محمد ساجد دانش، Shakar garh، پاکستان

تجویز کنندہ 8 لوگ

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔