رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

دہشت گرد حملے: حکام کیا کریں؟

آئے روز پاکستان کے مختلف شہروں میں دہشت گرد حملے کیے جا رہے ہیں۔ جمعہ کو پشاور کے پیپل مارکیٹ میں بم حملے میں سو سے زیادہ افراد مارے گئے اور پیر دو نومبر کو پہلے راولپنڈی میں ایک بینک کے باہر تنحواہیں لینے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا اور پھر لاہور میں ایک خود کش حملہ کیا گیا۔
موجودہ صورتحال میں جب پاکستان کے ہر شہر میں لوگوں کو ایسے حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو ایسے میں حکام کیا کریں؟
کیا حکومت کی اس صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی میں بہتری کی جا سکتی ہے؟ کیا سرکاری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس اس خطرناک صورتحال پر قابو پانے کے لیے مناسب وسائل ہیں؟ اس بحران میں شہری کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟
اور کیا موجودہ حالات میں سکول اور کالج بند کرنے کا فیصلہ صحیح تھا؟

(ازراہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ تبصروں کی تعداد بڑھ جانے کے سبب صرف اردو میں ٹائپ کی جانے والی آراء شائع کی جائیں گی۔ اس کے لیے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 11/2/09 2:46 PM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:72

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 11/4/09 5:07 PM GMT

حکام کو چاہيے کہ اين آر او ميں طالبان کو بھی شريک کر ليں اور شير و شکر ہو جائيں۔

جانگڈا !!!، Karachi، پاکستان

تجویز کنندہ 8 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/4/09 5:03 PM GMT

غريب عوام کے ليے خصوصی ريليف فنڈ جاری کرے۔ تعليم کے ليے ايک مضبوط لائحہ عمل ترتيب دے۔
جاني، شارجہ

آداب عرض! خيالات بہت اچھے ہیں ليکن يہ سب کچھ کرنے کے لیے سرمايہ اور انتظاميہ کون مہيا کرے گا؟

وکٹر بھانا، Toronto، کینیڈا

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/4/09 4:34 PM GMT

کون سے حکام بھائی؟ اگر کہيں ہوتی يہ مخلوق تو حکومت کہيں تو نظر آتی نا۔

جانگڈا !!!، Karachi، پاکستان

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/4/09 4:04 PM GMT

جو دوسروں کے ليے گھڑا کھودتا ہے وہ خود اس ميں گر جاتا ہے۔ آسان حل يہی ہے کہ فوج کو واپس بلايا جائے۔

Ali Ahmed Naqvi، Qum، ایران

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/4/09 3:27 PM GMT

اگر موبائل کيمرہ ساتھ ہو تو وقتاً فوقتاً رش والے ايريا کا فوٹو کھينچتے رہے۔
Ali Ahmed، Qum Iran

يہ حرکت جان ليوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ عوام ہی مشکوک ايجنٹ سمجھ کر دھلائی شروع کرديں گے۔
sana ، karachi

بجا فرمایا۔ لیکن اگر یہ حرکت سر زد کرتے وقت قمیض پر شناخت نامہ یا محکمے کا کارڈ آویزاں کر لیا جائے تو جہاں نہ صرف دھلائی سے بچا جا سکتا ہے بلکہ وہیں پر یہ حرکت عزت افزا بھی بن سکتی ہے۔ خاکسار بھی دوران رپورٹنگ پریس کارڈ آویزاں کرتا ہے بصورت دیگر دھلائی کا چانس کافی زیادہ ہوتا ہے۔ شکریہ۔

نجيب الرحمان سائکو، *لاہور* [P@KI$T@N]

تجویز کنندہ 23 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/4/09 2:54 PM GMT

فوج کو بے مقصد جنگ میں الجھائے رکھنے سے کیا دہشت گردی ختم کی جا سکتی ہے؟
مريم فائزہ

آداب عرض! دہشت گردی کا خاتمہ تو (عموماً) دھيرے دھیرے ہوگا کہ نظرياتی اختلاف ہے ليکن فوج اور پوليس گويا دفاع کو تو ہميشہ ہی پرو ايکٹو رہنا چاہیے۔

وکٹر بھانا، Toronto، کینیڈا

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/4/09 1:41 PM GMT

اصل مسئلہ يہ ہے کہ جاہلوں کا ايک بہت بڑا ٹولہ ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اس ليے يہ تعليمی ادارے تباہ اور ٹيچر قتل کر رہے ہيں تاکہ ان کی قوت ميں مزيد اضافہ ہو۔ ان کے راستے ميں آخری رکاوٹ امريکہ اور ہمارے بہادر فوجی ہيں، جبکہ باقی معاشرے کو ڈرا دھمکا کر کھڈے لائن لگا ديا گيا ہے۔ جب تک قوم متحد اور بے خوف ہو کر ان کو غير مسلح کر کے ڈبل کيبن گاڑيوں سے نيچے نہيں اتارے گی اور بيلچے پکڑا کر اصل کام پر نہيں لگائے گی، يہ اسی طرح دندناتے پھريں گے۔

Ch Allah Daad، Mississauga

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/4/09 1:40 PM GMT

پاکستان اور افغانستان کی موجودہ خراب اور بگڑتی صورتحال کی ذمہ دار امريکہ سے زيادہ ہمارے حکمران ہيں۔ پيسے اور ڈالر ليتے وقت قوم کا ذرا بھی احساس نہيں آيا ليکن جب سر پر پڑی تو بچارے عوام کو قربانی کے ليے پيش کيا۔ اگر حکمران اپنے آپ ميں احساس ذمہ داری پيدا کريں تو يہ سب مسائل کبھی بھی نہ ہوں۔

احمد خان افغان، پيرس فرانس

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/4/09 12:03 PM GMT

فوج کو بے مقصد جنگ میں الجھائے رکھنے سے کیا دہشت گردی ختم کی جا سکتی ہے؟مريم فائزہ

بالکل نہیں۔

اسماء، پیرس

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/4/09 11:34 AM GMT

آسان حل يہی ہے کہ غيروں کو سيدھا جواب ديا جائے اور اپنی فوج کو اپنے اصل پوزيشن جو سنہ 47 سے ليکر2000 تک تھی پر واپس بلايا جائے اور افغان پاليسی از سرنو مرتب کی جائے جس ميں اس کی سلامتی کا خيال رکھتے ہوئے اپنی سرزمين سے نہ تو کسی کو اڈے ديے جائيں اور نہ کسی قسم کی کمک۔ اتحادی جانيں اور افغان جانيں، ہميں بالکل نيوٹرل رہنا چاہيے تب جاکر وطن عزيز ميں امن آئے گا۔

محمد علی، seoul، جنوبی کوریا

تجویز کنندہ 10 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/4/09 10:59 AM GMT

ہمارے ملک میں ہر روز کوئی نہ کوئی مسئلہ بنا رہتا ہے اور ہم لوگ جو دوسرے ملکوں میں ہیں ہماری عزت خاک میں مل گئی ہے۔ سب طعنے دیتے ہیں کہ آپ لوگ دہشت گرد ہو۔ ہم نہ تو پاکستاں کے رہے اور نہ کسی اور ملک کے۔ آپ ہی بتائيں ہم کہاں جائيں۔

محسن حان، جدہ

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/4/09 10:51 AM GMT

جب تک طالبان افغانستان ميں سکولوں کو تباہ کر رہے تھے تو لوگ کہتے تھے اسلام آ رہا ہے۔ اب ان کے اپنے ملک ميں اسلام آ رہا ہے تو ان کو فکر لگ گئی ہے۔

Asif، Gujranwala

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/4/09 10:01 AM GMT

حکومت صرف عوام کی مدد سے دہشتگردی کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ پوليس اور عوام کا رابطہ اور اعتماد بحال کيا جائے۔ ہر وارڈ اور يونين سطح پر کميٹياں تشکيل دے کر ان کے سربراہ کو مجسٹريٹ اختيارات دیے جائيں۔ ان کی مالی مدد بھی کی جائے پر صرف باکردار اور غيرجانبدار شہريوں کو ليا جائے۔ يہ وفاقی سطح تک کام کريں۔

شفيع اللہ ميمن، سجاول ٹھٹہ سندہ، پاکستان

تجویز کنندہ 10 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/4/09 8:36 AM GMT

ميرے حساب سے ہم کو امريکہ کو بول دينا چاہيے کہ اگر اب ايک بھی ڈرون حملہ ہوا يا کسی نے بھی ہمارے ملکی معاملات میں دخل اندازی کی تو ہم قبائلی علاقون سے اپنی فوج واپس بلا ليں گے۔ پھر ديکھيں کيا ہوتا ہے۔

faisal advani، karachi

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/4/09 6:46 AM GMT

بہت سارے لوگ ابھی تک ٹی وی پر بھی بحث میں ان دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ پتا نہیں کیوں ان کو کوئی پکڑتا نہیں۔

تنوير اختر، فيصل آباد، پاکستان

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔