رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

اقوام متحدہ کے عملے کی واپسی

اقوامِ متحدہ نے افغانستان میں تعینات غیر ملکی عملے میں سے چھ سو ’غیر اہم‘ ارکان کو سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر عارضی طور پر واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے کابل میں اقوامِ متحدہ کے ایک گیسٹ ہاؤس پر طالبان کے حملے کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔ اس حملے میں ادارے کے پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

ادھر پاکستان میں بھی اقوام متحدہ نے صوبہ سرحد اور وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے غیر ملکی عملے کو ان علاقوں سے نکالنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے غیر ملکی عہدیدار پشاور اور اسلام آباد تک محدود ہیں۔

آپ کے خیال میں ان علاقوں میں اقوام متحدہ کی موجودگی کی کیا اہمیت ہے؟ اقوام متحدہ کے ان فیصلوں سے پاکستان کے علاقے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور مالاکنڈ ڈویژن میں آئی ڈی پیز سے متعلق امدادی کارروائیوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

(ازراہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ تبصروں کی تعداد بڑھ جانے کے سبب صرف اردو میں ٹائپ کی جانے والی آراء شائع کی جائیں گی۔ اس کے لیے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 11/5/09 2:40 PM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:64

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 11/7/09 4:24 PM GMT

يہ نہ صرف اقوام متحدہ کے عملے کی واپسی ہے بلکہ امريکہ و نيٹو کی فوجوں کی واپسی کا پيش خيمہ ہوگا۔ اگر کسی ملک سے اقوام متحدہ نکل جائے تو باقی فوجوں کے رہنے کا کوئی قانونی جواز نہيں رہتا۔

محمد سرفراز، پيرس، فرانس

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/7/09 3:41 PM GMT

امريکہ کے غلام تو خاص کر مسلم ممالک ہيں۔
sana khan، karachi

ثناء سوچنے کی بات ہے کہ اگر مسلم ممالک امریکہ کے غلام ہوتے تو ساری دنیا میں صرف انہی کی دھلائی کیوں ہو رہی ہوتی؟
اسماء، پيرس

اسما صاحبہ امریکہ کے غلام مسلم ممالک کے حکمران اور حکومتيں ہيں اور دھلائی عوام کی ہوتی ہے۔ آخر کيوں؟
اعجاز اعوان، کراچی، پاکستان

جیسی عوام ویسے حکمران۔ عوام ہی تو حکمرانوں کو تخت پر بٹھاتی ہیں۔ اس لیے عوام کی دھلائی میں اتنا حیران ہو کر عوام دوست بننے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔

اسماء، پیرس

تجویز کنندہ 7 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/7/09 2:16 PM GMT

امريکہ کے غلام تو خاص کر مسلم ممالک ہيں۔
sana khan، karachi

تھوڑی سی تصحيح چاہوں گی’ گر تو برا نہ مانے‘۔ عام طور پر مسلم ممالک، خاص طور پر پاکستان۔ جی مشرف صاحب کا نعرہ تھا ’سب سے پہلے پاکستان۔‘

rehana kazmi، delhi، بھارت

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/7/09 2:09 PM GMT

سمجھ نہيں آتی کہ اس ادارے کو کس مقصد کے ليے بنایا گيا تھا جو آج تک دنيا ميں کسی بھی مظلوم قوم کے ليے کارآمد ثابت نہيں ہوا۔ کيا يہ بھی حکومت پاکستان کی طرح اپنے قوم کی حفاظت کے بجائے ہميشہ اپنے ہی فکر ميں لگا رہتا ہے۔
fazalkhan khan، abudhabi، متحدہ عرب امارات

جس کام کے ليے بنايا گيا تھا وہ کام بخوبی کر رہا ہے، يعنی بڑی طاقتوں کے مفاد کا تحفظ۔

rehana kazmi، delhi، بھارت

تجویز کنندہ 9 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/7/09 2:05 PM GMT

’امريکی‘ صرف اور صرف اپنے مفاد کے دوست ہيں۔ امريکہ جلد يا بہ دير افغانستان سے نکلے گا مگر ’پاکستان‘ کو حسب معمول مصيبتوں کی دلدل ميں تنہا اور بے يارو مددگار چھوڑے گا۔
ايس اے سعيد، Nottingham، برطانیہ

ايسا تو ہوتا ہی ہے ايسے کاموں ميں۔ کوئی حکمرانی کے گُر بھارت والوں سے سيکھے۔ ہم صرف پاکستانی حکمرانوں کے ليے دعا ہی کرسکتے ہيں۔ دوا اور علاج تو اس کا کوئی نہيں۔ الٹی ہو گئيں سب تدبيريں۔۔۔۔

rehana kazmi، delhi، بھارت

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/7/09 1:56 PM GMT

اقوام متحدہ نے پبلک کے بے حد اصرار پر واپسی ملتوی کر دی ہے۔ نئے جذبہ اور نئی امنگ کے ساتھ پھر کام کرے گی۔ خوش آمديد!

rehana kazmi، delhi، بھارت

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/7/09 12:38 PM GMT

امريکہ کے غلام تو خاص کر مسلم ممالک ہيں۔
sana khan، karachi

ثناء سوچنے کی بات ہے کہ اگر مسلم ممالک امریکہ کے غلام ہوتے تو ساری دنیا میں صرف انہی کی دھلائی کیوں ہو رہی ہوتی؟
اسماء، پيرس

اسما صاحبہ امریکہ کے غلام مسلم ممالک کے حکمران اور حکومتيں ہيں اور دھلائی عوام کی ہوتی ہے۔ آخر کيوں؟

اعجاز اعوان، کراچی، پاکستان

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/7/09 9:30 AM GMT

اقوام متحدہ امريکہ کی لونڈی ہے، بھلا اس سے بھلائی کی کيا توقع۔ ايک دن تو غاصب قوتوں کو يہاں سے جانا ہی پڑے گا۔ تب اس خطے ميں امن ہوگا۔

Shiraz Shah، Karachi

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/7/09 6:03 AM GMT

ميرے خيال سے يہ اچھا اقدام ہے۔

عبدالوحيد ملک، تلہ گنگ پاکستان

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/7/09 12:57 AM GMT

وہی جو عراق ميں تھی کہ اتحادی افواج کی مدد۔ پاکستان اور افغانستان ميں بھی ان کی پوری مدد کر رہا ہے۔

وMohd Ghazi، Al.Khobar Saudi Arabia

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/6/09 9:49 PM GMT

اقوام متحدہ کی کوئی ساکھ نہیں اور یہ ادارہ بد اعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے۔

بشیر احمد، راولپنڈی

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/6/09 4:50 PM GMT

اقوامِ متحدہ نے افغانستان ميں تعينات غير ملکی عملے ميں سے چھ سو ’غير اہم‘ ارکان کو سکيورٹی کے خدشات کے پيش نظر عارضی طور پر واپس بلانے کا اعلان کيا ہے۔ ايک وقت آئے گا جب نيٹو افواج بھی ايسا اعلان کرنے پر مجبور ہوں گی۔
ضياء

ليکن وہ وقت کبھی نہ آئے گا کہ اس خطے ميں طالبان دوبارہ سر اٹھا سکيں۔ اقوام متحدہ کے يہ ادارے خوراک فراہم کر رہے تھے اور عبداللہ ديوانہ اپنے مفت روٹی دينے والے کو ’شکست‘ دے کر خوش ہو رہا ہے۔

مزمل خان

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/6/09 4:45 PM GMT

جی بی بی سی جی درست فرمايا آپ نے فرق تو پڑے گا خاص طور پر ان بازاروں پر جن کی دوکانوں ميں متاثرين کے ليے لائی گئی امدادی اشيا فروخت ہوتی ہيں اور ان حکومتی اہلکاروں پر بھی جو انہيں سپلائی کرتے ہيں۔

جانگڈا !!!، Karachi، پاکستان

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/6/09 3:55 PM GMT

ميرے خيال ميں يو اين او تو کيا ساری دنيا بشمول امريکہ اور بھارت کو افغانستان کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنے اپنے گھر کی راہ لينی چاہيے۔ پاکستان اور ايران مِل کر افغانستان سے ملنے والی اپنی اپنی سرحديں اس طرح سيل کريں کہ بغير پاسپورٹ اور ويزے کے کوئی پرندہ بھی آر پار نہ آ جا سکے اور نہ سمگلِنگ ہوسکے۔ اس سے سارے افغان گروپ آپس ميں مِل بيٹھنے پرمجبور ہوں گے اور پھر اگر انہيں بيرونی دنيا کی کوئی ضرورت محسوس ہوگی تو اس پر غور کيا جاسکتا ہے۔

Sajjad Butt، Lahore، پاکستان

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/6/09 3:45 PM GMT

گويا برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے۔ پيپلز پارٹی و ايم کيو ايم کے باہمی مذاکرات کے بعد ہی اين آر او پر بحث کی جاسکتی ہے۔
ماريہ خان، کراچی

اس محاورے کی صحيح تشريح کے مطابق پی پی پی ايم کيو ايم تعلقات پر برف پڑنا شروع ہوگئی ہے۔

Sajjad Butt، Lahore، پاکستان

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔