رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

قحبہ خانے اور دہشت گردی

لاہور پولیس کے مطابق لاہور میں قحبہ خانے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں اور ان کے خلاف دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ لاہور پولیس چیف کا کہنا ہے کہ شہر کے چار سو پینتالیس قحبہ خانوں اور ان مالکان کے خلاف فوری طور پر کریک ڈاؤن شروع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ قحبہ خانے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کو پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں۔

آپ کیا کہتے ہیں؟

(ازراہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ تبصروں کی تعداد بڑھ جانے کے سبب صرف اردو میں ٹائپ کی جانے والی آراء شائع کی جائیں گی۔ اس کے لیے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 11/9/09 12:29 PM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:41

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 11/9/09 4:58 PM GMT

پوليس کو اور ديگر تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملکر دہشت گردی کا خاتمہ کرنا چاہیے کيونکہ دہشت گردی سے لوگ بہت نالاں ہيں۔۔۔ مريم فائزہ

مریم بہن ذرا دیر کو ڈاکٹر عافیہ کیس، بیگناہوں کی گرفتاریاں اور سینکڑوں لاپتہ افراد کو ذہن کے خانے میں لائیں تو آپ مان جائیں گی کہ لوگ تو پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں سے بھی بہت نالاں ہیں۔ جس ملک کے چوکیدار ہی چور، لٹیرے، ڈاکو بن جائیں اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہے۔

اسماء، پیرس

تجویز کنندہ 9 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/9/09 4:38 PM GMT

ہاں ايسا ہونا جاہيے کيوں کہ پاکستان ايک اسلامی ملک ہے۔۔۔ ليکن حکومت کو ان بيچاری عورتوں کا وظيفہ مقرر کرنا چاہيے يا انہیں روزگار دينا چاہيے۔ اس سے لوگ بہت سی بيماريوں سے بھي پچيں گے۔

حالد اصعر، سرگودہا

تجویز کنندہ 9 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/9/09 4:38 PM GMT

جن کو پکڑا جا رہا ہے، اگر سچ بول دیا پریس کے سامنے تو پولیس کی تو خیر نہیں۔۔ کبھی سوچا ہے کہ یہ کام ہوتا کیوں ہے۔۔۔ کتنے گھروں کا چولہا بند ہو گا۔۔۔ ان کو روزگار دو تو وہ یہ کام نہ کریں۔۔۔
غلام عباس، لیہ چوک اعظم

’سنسار کی ہر ایک بےشرمی غربت کی گود میں پلتی ہے
چکلوں میں ہی آ کر رُکتی ہے فاقوں سے جو راہ نکلتی ہے‘

نجيب الرحمان سائکو، *لاہور* [P@KI$T@N]

تجویز کنندہ 7 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/9/09 4:36 PM GMT

پوليس کی يہ نرالی منطق نہ سمجھ ميں آنے والی ہے۔ ان دو گروہوں کا ملاپ بھی نہ سمجھ ميں آنے والی بات ہے۔ بالفرض محال اگر چند لمحوں کے ليے ہی سہی اس بات کو سچ مان ليا جائے تو پوليس کو اس آگ و شبنم کے جس کھيل کا سامنا ہوگا تو اس ميں انکی خير نہيں۔۔۔

Dr Alfred Charles، Karachi

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/9/09 4:34 PM GMT

ميرے لیے تو يہ خبر ہی حيران کن ہے کہ لاہور ميں چار سو پينتاليس قحبہ خانے ہيں۔ ارے سائکو اور ساجد بٹ صاحب کيا ہو رہا ہے ہمارے لاہور ميں؟ فیضان صديقی
جو بھی ہو رہا ہے بہرحال آپ کے کراچی کے ’نجی عقوبت خانوں‘، ’ٹارچر سیلوں‘، ’بھگڈروں‘ اور ’بارہ مئیوں‘ سے تو پھر بھی بہتر ہی ہے۔۔نجيب الرحمان سائکو،
تو دوست کسی کا بھی ستمگر نہ ہوا تھا
اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا

rashid suhail، leeds، برطانیہ

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/9/09 4:32 PM GMT

ارے سائکو اور سجاد بٹ صاحب کيا ہو رہا ہے ہمارے لاہور ميں؟ فیضان صديقي

گزارش ہے کہ يہ دُنيا کا قديم ترين پيشہ ہے اور کوئی شہر اس سے مخفوظ نہيں۔ يہاں سرگرم دہشتگرد، انتہا پسند، مذہبی جنونی ہيں جو ايسی جگہوں کو اپنے قيام کے لیے نہيں چُن سکتے جہاں ہر وقت ايمان کو اور چھاپے کا خطرہ ہو۔ اگر کراچی و دوسرے بڑے شہروں کا سروے بھی شائع کيا جائے تو يہي صورتحال ہوگي۔ حال ہی ميں ايک مخصوص قِسم کی تين روزہ ورکشاپ کی ميزبانی کا اعزاز کراچی کو ہی حاصل ہوا جو شاید کہيں اور ممکن نہ تھا۔۔۔

Sajjad Butt، Lahore، پاکستان

تجویز کنندہ 7 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/9/09 4:23 PM GMT

کیا طالبان نے ’مدرسے‘ چھوڑ کر قحبہ خانے چلانے شروع کر دیے ہیں؟

احسن رضا، Glasgow، برطانیہ

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/9/09 4:15 PM GMT

کيا ملا مساجد کو چھوڑ کر يہاں آ بسے ہيں؟

مر يم فا ئزہ

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/9/09 4:13 PM GMT

اول بات قبحہ خانے ہونے ہی نہیں چاہیے، کیونکہ کراچی میں تو ہی ہوچکا ہے کہ ’آنٹیوں‘ نے یہ کاروبار سمجھال لیا ہے۔ وہ فون کرتے ہیں اور سامان پہنچ جاتا ہے۔ دوسرے دہشت گردی کی بات ہے یہ ہر طرح سے ختم ہونی چاہیے۔ اب عام لوگ سیاست اور مہنگائی سے تو تنگ ہیں۔ ساتھ ساتھ کاروبار دہشت گردی کی وجہ سے ختم سا ہوگیا ہے۔ میری رائے میں فحاشی کا کاروبار اور دہشت گردی دونوں ہی ختم ہونے چاہیں۔

SHAHZAD NAQVI، KARACHI

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/9/09 3:57 PM GMT

جن کو پکڑا جا رہا ہے، اگر سچ بول دیا پریس کے سامنے تو پولیس کی تو خیر نہیں۔۔ کبھی سوچا ہے کہ یہ کام ہوتا کیوں ہے۔۔۔ کتنے گھروں کا چولہا بند ہو گا۔۔۔ ان کو روزگار دو تو وہ یہ کام نہ کریں۔۔۔

غلام عباس، لیہ چوک اعظم

تجویز کنندہ 9 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/9/09 3:53 PM GMT

پوليس کي صفائی کے بغير معاشرے کی صفائی کو بھول جائيں۔ امن پسند Dr.Shahzad، Sargodha

جناب آپ کی بات سو فيصد درست ہے پر صفائی کے ساتھ ساتھ اگر انہيں سہوليات بھی دی جائیں تو ہی برائی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ استاد، پوليس اور جج ان تينوں کی اگر تنخواہ کسی ريٹائرڈ آرمی افسر کے برابر بھی کر دی جائے تو ميرا دعوی ہے کہ ملک سے آدھی کرپشن ختم ہو جائے گي۔

فیضان صديقی ,SINDH

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/9/09 3:50 PM GMT

شہباز شريف کو شاباش۔ اس ناسور کو جلد ختم ہونا چاہيے۔ يہ ايک اچھا اقدام ہے۔۔۔ Munir، Reading

جی ہاں! پنجاب ميں چينی مافيا، لينڈ مافيا، منشيات مافيا، مذہبي وسماجي دہشتگردي، بدمعاشي، انڈر ورلڈ گروپوں، امن و امان اور بيروزگاری جيسے تمام مسائل کا کاميابی سے قلع قمع کر چکنے کے بعد اب يہی ايک مسئلہ باقی رہ گيا ہے جِسے شہباز شريف کی توجہ درکار ہے۔۔۔

Sajjad Butt، Lahore، پاکستان

تجویز کنندہ 9 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/9/09 3:46 PM GMT

ميرے لیے تو يہ خبر ہی حيران کن ہے کہ لاہور ميں چار سو پينتاليس قحبہ خانے ہيں۔ فيضان

بھئی يہ تو بہت کم تعداد بتائی گئی ہے۔ لگتا ہے کچھ گنے چنے اڈوں پر ہی بات ختم ہو جائے گي۔ ابھی ہزاروں قحبہ خانے اوجھل ہيں۔۔۔

محمد راشد، جدہ، سعودی عرب

تجویز کنندہ 7 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/9/09 3:45 PM GMT

پاکستانی پوليس کے افسران بالا اگر کسی جرم ميں 100 فیصد ملوث نہ ہوں تو کم از کم 50 فیصد تو ضرور ملوث ہوتے ہيں۔ اگر ان ’قحبہ خانوں‘ سے ان پوليس افسران کو ’بھتہ‘ موصول ہونا شروع ہوگيا تو پھر کوئی کريک ڈاؤن نہيں ہوگا۔ پوليس ميں اگر اتنی صلاحيت موجود ہوتی تو حالات اس طرح کيوں خراب ہوتے؟

ايس اے سعيد، Nottingham، برطانیہ

تجویز کنندہ 17 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/9/09 3:43 PM GMT

ان سستی جگہوں اور گيسٹ ہاؤس ٹائپ ٹھکانوں پر صِرف غريب اور مِڈل کلاس لوگ ہی آتے ہيں جبکہ بڑے ہوٹلوں اور جِِم خانوں وغيرہ کے سامنے سے ہمارے پوليس افسر سر جُھکا کر اپنی پيٹی اور نوکری سنبھالتے خاموشي سے گُُزر جاتے ہيں۔۔۔

Sajjad Butt، Lahore، پاکستان

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔