رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

مشرق وسطیٰ امن بات چیت

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بات چیت اوباما انتظامیہ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کا حصہ ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں امن کوششوں کو ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پیر کی رات صدر براک اوباما اور اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی لیکن اس کے بعد روایتی طور پر دونوں رہنما میڈیا کے سامنے نہیں آئے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس ملاقات میں وہ گرم جوشی نہیں تھی جو امریکی صدور کی جانب سے اسرائیلی لیڈروں کے لیے اکثر دیکھی جاتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی کوششوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا امریکہ کے صدر باراک اوباما کے عہدہ سنبھالنے کے بعد خطے کے حالات میں کوئی بہتری آئی ہے؟ آپ کے خیال میں مشرق وسطیٰ میں دیر پا امن کے قیام کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں؟ کیا آپ مسئلہ فلسطین کے کسی حل کے بارے میں اب بھی پرامید ہیں؟

(ازراہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ تبصروں کی تعداد بڑھ جانے کے سبب صرف اردو میں ٹائپ کی جانے والی آراء شائع کی جائیں گی۔ اس کے لیے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 11/10/09 12:44 PM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:44

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 11/11/09 10:11 AM GMT

اوباما کے ہاتھ کچھ نہيں آئے گا۔ ايک اور مونيکا آ جائے گی۔

شفيق الا اسلام، لاہور

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/11/09 1:11 AM GMT

مشرق وسطیٰ جو دراصل مغربی ايشيا ہے صدر اوبامہ کے اقتدار ميں آنے کے بعد امن کے نئے موڑ پر آن پہنچا ہے۔ اب اسرائيل بہرحال اچھا اور لاڈلہ نہيں رہا۔ سفارتکاری نئی کروٹ بدل رہی ہے۔

[فدافدا]

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/10/09 6:55 PM GMT

اسرائيل اور فلسطين کے درميان بات چيت ہی مسئلے کا حل ہے۔

Abrar، Lahore

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/10/09 5:56 PM GMT

امريکہ اور دوسروں کی بہتري، وہ بھی مسلمانوں کي؟ ميں تو اتنا کہوں گا کہ ’ہوئے تم دوست جن کے دشمن ان کا آسماں کيوں ہو۔‘ بہرحال ’جی کے خوش رکھنے کو غالب يہ خيال اچھا ہے۔‘

فضل سواتی، سوات

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/10/09 5:53 PM GMT

پہلے ہمارے حالات ٹھيک ہوں تو فلسطين کے بارے سوچيں۔ لوگ ڈرتے باہر نہيں نکلتے کہيں کوئی دھماکہ نہ ہو جائے اور يہ اچھا موقع ہے کہ گھر بيٹھ کر باقی دنيا کے مسائل کا حل ڈھونڈيں۔

علی گل، سڈنی

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/10/09 5:50 PM GMT

اس بحث سے قطع نظر کہ کيسے؟ آيا امريکہ و يورپ کی آشيرواد يا مسلمانوں کی اپنی ’کرنيوں‘ کے سبب۔ اسے اپنی بين الاقوامی طاقت اور اثر و رسوخ کا يقين ہے تب ہی وہ کسی کو بھی گھاس ڈالنے کو تيار نہيں ہے۔ آج کی نام نہاد امہ ’طالبان اور ان کے ہمدردوں‘ کی طرح اپنے قدموں ميں بم پھاڑنے کے سوا کچھ نہيں کرسکتی۔ مگر مجھے يقين ہے کہ اوپر والا جلد يا بدير طالبانيت کے ساتھ اسرائيليت کا خاتمہ کر کے سب گھمنڈ توڑ دے گا۔

وحید عبدالوحید

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/10/09 5:49 PM GMT

آداب عرض! حقيقت پسندانہ نظروں سے ديکھا جائے تو اسرائيلی لوگ اُس سر زمين کے اصل باشندے ہيں۔......
وکٹر بھانا، Toronto، کينيڈا

اگر ملکيت کا يہ فارمولا صحيح ہے تو جرمنی پر حق صرف جرمنی والوں کا ہے اور ہٹلر صاحب يہوديوں کے ساتھ ٹھيک کر رہے تھے؟

طيب عباس، فيصل آباد، پاکستان

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/10/09 5:25 PM GMT

اسرائيل آخر فلسطين کو تسليم کر کے مل جل کر رہنے کو نصبُ العين کيوں نہيں بناتا؟
جانگڈا، Karachi،

جانگڈا صاحب اِس دُنيا کا مُستند اور لافانی اصول ہے کہ عِزت، رُتبہ، طاقت، اختيار اور احترام وغيرہ کسی فرد، ملک يا قوم کو کبھی خيرات ميں نہيں مِلتا اور نہ پليٹ ميں رکھ کر پيش کيا جاتا ہے بلکہ حصولِ علم، جہدِ مُسلسل، اتحاد اور ذہنی يکسوئی کے ذريعے حاصل کيا جاتا ہے۔ شکريہ۔

Sajjad Butt، Lahore، پاکستان

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/10/09 5:11 PM GMT

باراک اوباما کی امن کوششيں تب ہی رنگ لائيں گی جب تمام مسلم ممالک ان کا ساتھ ديں گے۔ اصل معاملہ ہی کچھ اور ہے۔ تمام عرب و مسلم ممالک مسئلہ فلسطين اپنی اپنی مرضی و خواہشات کے مطابق حل کروانے کی کو شش کرتے ہيں۔ وہ اپنے مفادات پہلے اور فلسطينی حقوق بعد ميں رکھتے ہيں۔ کتنے ممالک سرعام اسرائيل سے تعلقات رکھتے ہيں اور کتنے اندرون خانہ، ايسے حالات ميں امريکی کوششوں کی کچھ اہميت نہيں۔ اسرائيلی وزير اعظم تو اندرونی حالات سے باخبر ہيں مگر صدر اوباما نہيں۔ جب تک اسلامی ممالک منافقت نہيں چھوڑتے فلسطين آزاد نہيں ہوگا۔

محمد سرفراز، پيرس، فرانس

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/10/09 4:57 PM GMT

ہم یہودیت کو صیہونیت سے کنفیوز کر دیتے ہیں، جیسے لوگ اسلام کو طالبان سے کرتے ہیں۔ صیہونیت ہماری ہی نہیں یہودیوں کی بھی دشمن ہے اور یہودی بھی صیہونیت کا ایسے ہی شکار ہیں جیسے ہم طالبان کا۔ مگر فرق یہ ہے کہ صیہونی شاید ہی اپنے یہودیوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوں۔ ہر جگہ کی طرح اسرائیل اور فلسطین کا اصل مسئلہ بھی انتہا پسندی ہے۔ انتہا پسندی کی بقا نفرت میں ہوتی ہے اور نفرت کی موجودگی میں امن ممکن نہیں ہوتا۔

احسن رضا، Glasgow، برطانیہ

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/10/09 4:57 PM GMT

مسلمان آخر اسرائيل کو تسليم کر کے مل جل کر رہنے کو نسبُ العين کيوں نہيں بناتے؟
وکٹر بھانا، Toronto، کینیڈا

اسرائيل آخر فلسطين کو تسليم کر کے مل جل کر رہنے کو نسبُ العين کيوں نہيں بناتا؟

جانگڈا !!!، Karachi، پاکستان

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/10/09 4:32 PM GMT

اميد پہ دنيا قائم ہے۔ جب تک مسلم دنيا سے اسرائيل نواز حکمرانوں کا صفايا نہ ہو۔ ماضی ميں پاکستان کے ايک جرنيل کی خواہش تھی کي کسی نہ کسی طرح اسرائيل کو تسليم کيا جائے ليکن ناکام ہوگئے۔

Ali Ahmed Naqvi، Qum، ایران

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/10/09 4:15 PM GMT

آداب عرض! حقيقت پسندانہ نظروں سے ديکھا جائے تو اسرائيلی لوگ اُس سر زمين کے اصل باشندے ہيں۔ مسلمان آخر اسرائيل کو تسليم کر کے مل جل کر رہنے کو نسبُ العين کيوں نہيں بناتے؟
وکٹر بھانا، Toronto، کینیڈا

مذہبی نقطۂ نظر سے اصل باشندوں کا تعين کرنا موجودہ دور ميں مناسب نہيں۔ ساری دنيا خدا کی بنائی ہوئی ہے۔ کسی خطہ سے مذہبی لگاؤ امن کی ضمانت نہيں۔ اس علاقے ميں تمام فریقین کو غير مذہبی حل تلاش کرنا ہو گا۔

Muneer Gill، Lahore، پاکستان

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/10/09 4:15 PM GMT

اسرائيل کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہيں۔

aman

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/10/09 4:05 PM GMT

صدر اوباما کو اسرائيل فلسطين کے مسئلے پر فيصلہ کن کردار ادا کرنا چاہيے۔ وقت آ گيا ہے کہ مذاکرات سے آگے بڑھ کر اسرائيل پر حقيقی دباؤ ڈالا جائے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ امريکہ کے اندر يہودی لابی کا اسر و ُرسوخ ديدہ دليری سے کم کيا جائے۔ اسرائيل کو احساس ہونا چاہيے کہ اس مسئلے کی وجہ سے دنيا انتہا پسندی، جہالت اور غربت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اسرائيل ايک حقيقت ہے اور مسلمانوں کو يہ بات تسيلم کر لينی چاہيے۔

آر ايس شکيل، کيف

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔