رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

طالبان امریکہ سے مذاکرات پر ’تیار‘

طالبان کے دور میں افغانستان کے وزیر خارجہ ملا وکیل احمد متوکل نے امریکی ٹی وی چینل ’سی این این‘ کو دیےگئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر امریکہ افغانستان سے نکل جانے کے لیے تیار ہو تو بعض طالبان بات چیت کے لیے تیار ہوں گے۔

ملا متوکل نے کہا کہ القاعدہ کا بین الاقوامی ایجنڈہ ہے جبکہ طالبان کا ایسا کوئی ایجنڈہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان دنیا کے لیے خطرہ نہیں ہیں اور وہ لچک دار رویہ اپنا سکتے ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکی صدر اس قانون پر دستخط کر چکے ہیں جس کے تحت جنگ سے کنارہ کشی کرنے والوں کی مالی مدد کی جا سکتی ہے۔

آپ کے خیال میں کیا افغانستان میں بات چیت کی کوششیں بارآور ثابت ہو سکتی ہیں؟ افغانستان میں حالات کس سمت بڑھ رہے ہیں؟ کیا پاکستان کے سرحدی علاقوں میں پائی جانے والی بدامنی پر قابو پانا افغانستان میں قیامِ امن کے بغیر ممکن ہے؟

(ازراہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ تبصروں کی تعداد بڑھ جانے کے سبب صرف اردو میں ٹائپ کی جانے والی آراء شائع کی جائیں گی۔ اس کے لیے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 11/11/09 12:37 PM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:107

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 11/13/09 11:25 PM GMT

وہ ہندی گانا یاد آیا جو کچھ اس طرح ہے:
عجیب داستاں ہے یہ
کہاں شروع کہاں ختم
یہ منزلیں ہیں کونسی
نہ وہ سمجھ سکے نہ ہم

پاکستان اور طالبان کی داستاں بھی کچھ عجیب سی ہے۔ پاکستان نے ہی طالبان کو بنایا اور اب یہی آگ ہے دامن گیر پاکستان کی۔ اس سے بھی بڑھ کر عجیب یہ کہ سبھی تہمتیں بچارے افغانستان اور امریکہ پر۔ چڑیاں تو چگ گئیں کھیت کب کی، اب تو ہاتھ دھرنے کو بھی نہ رہی عقل۔

حسين اندرياس، Memphis، ریاست ہائے متحدہ امریکہ

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/13/09 2:22 PM GMT

طالبان نامی ملکی وغير ملکی دہشت گردوں اور غير ملکی ايجنسيوں کے کارندوں کا مکمل خاتمہ کر ديا جائے اور امريکی دہشت گردی يعنی ڈرون حملوں کا سختی سے جواب دے کر يہ حملے بند کروائے جائيں۔ صرف زبانی کلامی احتجاج اور مذمت سے کام نہيں چلےگا۔
اعجاز اعوان، کراچی، پاکستان

محترم اگر محض سوچ کی بنياد پر دنيا کے کاروبار چل سکتے تو آج ہر ذی شعور اپنے مطلب کی دنيا بسا رکھتا۔ اگر ہمارا وجود عقلمند اور حقائق پر نظر رکھنے والی قوم کا ہوتا تو ہم مستقلاً انڈيا، افغانستان، روس و امريکہ سے دست وگريباں ہونے سے دامن بچاتے ہوئے راہ عمل اپناتے۔

وحید عبدالوحید

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/13/09 12:27 PM GMT

’صاف چھپتے بھی نہيں سامنے آتے بھی نہيں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بيٹھيں ہيں‘
طالبان، بات چيت، مزاکرات، جنگ۔۔۔ سب پاکستان کے کامياب ايٹمی دھماکے کی پيداوار ہيں

[فدافدا]

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/13/09 7:53 AM GMT

امريکہ سے بولو افغانستان اور پاکستان سے نکل جائے۔ افغانستان اور پاکستان میں شير موجود ہیں۔۔۔ اپنا ملک برباد نہ کرو ۔۔۔ روس کی طرح نکل جاؤ۔

کفايت اللہ او شمس الحق، Qta shekh manda

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/13/09 7:11 AM GMT

امريکہ نہ صرف افغانستان سے نکل جائے بلکہ مسئلہ کشمير اور مسئلہ فلسطين بھی حل کرنے ميں ايمانداری کا مظاہرہ کرے۔ اس سے امن بھی قائم ہو گا اور دہشت گردی بھی ختم ہو جائے گي۔

Liaqat Ali، Kamar Mushani

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/13/09 7:07 AM GMT

امريکہ افغانسان سے نکل رہا ہے کیونکہ اب اسے پاکستان ميں آنا ہے۔۔۔

امتياز

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/13/09 6:08 AM GMT

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے۔۔۔

کاش، -------

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/12/09 7:31 PM GMT

اسلام عليکم، دہشت گردی کے خلاف موجودہ جنگ کو اپنے منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے، بصورت ديگر يہ پوری دنيا کو اپنی لپيٹ ميں لے گي۔۔۔

فردم جان، ميرانشاہ

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/12/09 6:35 PM GMT

افغانستان اور عراق ميں انہيں ہمدرد بہت ملے جس کے باعث يہاں اس کے مقاصد کی تکميل ہوتی رہی اور وہ اپنے قدم جمانے ميں کامياب ہوا۔ ليکن کب تک ايسا ہوتا رہے گا۔ ايک دن تو اسے جانا ہی ہوگا۔ طالبان کو مضبوط اور انہيں استعمال کرنے والا بھی تو امريکہ ہی ہے اور انہی کی مدد سے اپنے اگلے اہداف کی تکميل بھی تو کرنی ہے يعنی پاکستان کے نيوک اپنے قبضہ ميں لينا جس کے لیے يکسوئی چاہيے۔ اس بار پاکستان کا ديرينا دوست پاکستان کو کيا جھٹکا ديتا ہے يہ ديکھنا رہ گيا ہے۔

Riffat Mehmood Khan، Karachi، پاکستان

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/12/09 5:49 PM GMT

پاکستانی فوج کو قبائلی علاقوں ميں الجھا کر امريکہ نکل بھاگنے کی تياريوں ميں ہے۔ يہ ہوتا ہے نتيجہ شاہ سے زيادہ شاہ کا وفادار بننے کا۔ ضياء

امريکہ خواہ چلا بھی جائے پاکستان ان دہشتگردوں کو ملک سے بھگا کر ہی اس جنگ کو ختم کرے گا۔ پاکستانی فوج ہزاروں بےگناہ نمازيوں، مزدوروں، بچوں اور عورتوں کے قاتلوں کو اب نہيں چھوڑے گی۔ طالبان تو ہميشہ کی طرح ميدان جنگ سے بھاگ جائے گا اور منہ ديکھتے رہ جائیں گے طالبان کے وفادار۔۔۔

مزمل خان

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/12/09 5:28 PM GMT

يہ نہ بھولیے کی القاعدہ اور طالبان امريکہ کے لیے پالک بچے ہيں اور ادھر جنرل ضيا سے زرداری تک ہمارے سارے حکمران اتنے بھولے ہيں کہ آج تک قومی مفاد کے تحت اپنا ہی نقصان کرتے رہے، بقول محسن نقوی

’ہم سادہ دلوں نے دشمنی سے
مفہوم تو دوستی ليا تھا
بازار وفا سے ہم نے محسن
اک زخم تو قيمتی ليا تھا۔۔۔‘

M Hassan، Sydney، آسٹریلیا

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/12/09 4:37 PM GMT

امريکہ افغانستان ميں ٹہلنے کے ليے نہيں آيا تھا جو واپس چلا جائے گا۔ اس کے خطے ميں پاکستان، ايران اور چين کے حوالے سے اہداف ہيں جن کے حصول کے ليے وہ ہر صورت افغانستان ميں رہے گا۔ اس قسم کے اعلانات ہاتھی کے دانت کی طرح ہوتے ہيں جن کے ذريعے ہوا کا رخ معلوم کرنے سميت دوسرے مقاصد حاصل کيے جاتے ہيں۔

جانگڈا !!!، Karachi، پاکستان

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/12/09 4:22 PM GMT

جتنی جلد ہوسکے پاکستان طالبان سے دوستانہ تعلقات پيدا کر لے کيونکہ پڑوسی دوست پاکستان کی ضرورت ہے۔
ضياء سيد

ايک بار پھر سانپون کو دودھ پلانا شروع کر ديں؟ بس ايک مشرف چاہيے اس فتنے کا سر کچلنے کے ليے۔

rashid suhail، leeds، برطانیہ

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/12/09 3:08 PM GMT

امريکہ کو چاہيے کہ پيسے دے کر جان چھڑانے يا حيلے بہانوں سے راہ فرار اختيار کرنے کی بجائے ميدان جنگ پر توجہ دے کيونکہ يہ کسی ویڈيو گيم پر کھيلی جانے والی جنگ نہيں کہ جب جی چاہا کھيل ختم کر ديا۔ يہ زمين پر لڑی جانے والی حقيقی جنگ ہے جس کی بنياد پر کروڑوں انسانوں کے مستقبل کا فيصلہ ہونا ہے۔ سو دو سو فوجی کيا ہلاک ہوئے امريکہ طالبانوں سے مذاکرات کی بات کرنے لگا۔ کيا پيسے دے کر مغرب کی سلامتی خريدی جا رہی ہے؟

احتشام فيصل چوہدری، شارجہ، متحدہ عرب امارات

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 11/12/09 3:05 PM GMT

اس خطے ميں امريکہ کی آمد کا مقصد پاکستان کا ايٹمی پلانٹ ہے۔ ہم يقين دلاتے ہيں کہ پاکستان ايٹم بم انتہائی ناگريز حالات ميں استعمال کرنے کا سوچے گا۔ اس سے البتہ بھارت کے جنگی جنون کو ٹھنڈا کرنے ميں مدد ملتی ہے۔۔۔

ضياء سيد

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔