رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

مہدی حسن کی یادیں

پاکستان کے مقبول گلوکار مہدی حسن طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ انہوں نے موسیقی کی دنیا میں اپنے سفر کا باقاعدہ آغاز سنہ انیس سو باون میں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے کیا اور انہوں نے اپنے کیریئر میں پچیس ہزار سے زیادہ فلمی اور غیر فلمی گیت اور غزلیں گائیں۔

سنہ انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ان کا شمار عوام کے پسندیدہ ترین فلمی گلوکاروں میں ہوتا تھا۔

مہدی حسن کی گلوکاری سے آپ کی کیا یادیں وابستہ ہیں؟ آپ نے پہلی بار انہیں کب سنا؟ آپ کو ان کا کون سا نغمہ یا غزل سب سے زیادہ پسند ہے؟

اگر آپ کے پاس مہدی حسن کی ایسی یادگار تصاویر ہیں جن کے جملہ حقوق آپ کے ہیں اور آپ انہیں ہمارے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں دیے گئے لنک کی مدد سے بھیجیں۔

آپ کی تصاویر

(اردو میں بھیجی جانے والی رائے ترجیحاً فوراً شائع کی جائےگی۔ اس کے لیے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)۔

اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ پاکستان کے کسی بھی علاقے سے ہمیں مفت فون بھی کر سکتے ہیں۔ نمبر ہے 080022275 جبکہ پاکستان سے باہر کے سامعین اپنی رائے کے اظہار کے لیے ہمیں اس نمبر پر فون کر سکتے ہیں: 0092512611139 (یہ نمبر ٹول فری نہیں ہے)

شائع شدہ: 6/13/12 10:25 AM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:51

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 6/17/12 6:56 AM GMT

مہدی حسن
موسیقی کی دینا کا بے تاج بادشاہ
جس کا خطاب ھی شہنشاہ غزل تھا
جس کی آواز ایسی نادر ونایاب کہ لتا جیسی عظیم گايئکہ نے کہا
کہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ھے
میں نے کھبی دیوتا یا بھگوان کو بولتے نہیں سنا
مگر جو میلوڈی اور کانوں میں رس گھولنے والی کیفیت شہنشاہ غزل کی آواز میں گاۓ ھوۓ کسی گیت کو سنتے ھوۓ محسوس ھوتی تھی وہ بہت انوکھی اور اچھوتی تھی-
وہ عظیم الشان شخص وہ موسیقی کا ایک عہد تھا

ایک بے مثال صوتی درس گاہ تھا
جو سروں میں بے جان لفظوں میں جان ڈالتا تھا

شاھین حیدر رضوی، کویت سالمیہ

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/15/12 12:41 PM GMT

پہلی غزل جس کو سن کر ایسا لگا کہ دل و دماغ کو سکوں ملا ہو وہ تو گلوں میں رنگ بھریں تھی۔ مہدی حسن صاحب نے گلوں میں رنگ اس طرح سے بھرے کہ سنا ہے فیض صاحب سے بھی یہ فرمائشں ہوتیں کہ ذرا مہدی حسن والی غزل تو سنائیے۔ لیکن پاکستان جہاں اصل فنکاروں کو میراثی سے آگے کا درجہ نہیں دیا جاتا مہدی حسن صاحب کو بھی آخری دنوں میں علاج کی وجہ سے پریشانی اٹھانا پڑی اور اب میڈیا اور چینلز لگتا ہے صرف انہی کا ذکر ہے۔
بقول قاسمی صاحب
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

علی احمد، برطانیہ

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/15/12 8:15 AM GMT

ايک عظيم گلو کا ر تھے-يوں تو مہدی حسن کے تمام گانے ہی لاجواب ہيں-شہنشاہ غزل مہدی حسن خان صاحب نے بے شمار خوبصورت گانے اور غزليں موسيقی کی دنيا کو دي جن ميں سے کسی ايک کو منتخب کرنا مشکل ہے ليکن انکا گانا جو درد ملا اپنوں سے ملا ميرا پسنديدہ گانا ہے-

Safdar، Dera Ghazi Khan

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/15/12 6:30 AM GMT

” يہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے " کے سروں نے ميرے دل پہ ہاتھ ڈال ديا۔
ميں بےچين ہو اٹھی۔
پوچھا يہ کون گا رہا ہے۔ خدا کے لئے اسے يہاں لاؤ۔۔۔
مہدي حسن سا گائک صديوں بعد پيدا ہوتا ہے۔
(نورجہان کا خراج عقيدت )

شہريار آفندی

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/14/12 11:10 PM GMT

الفاظ کے معنی انکی شدْت اور گہرائی جاننا ہوں تو خان صاحب کی کوئی سی بھی غزل سن ليجئے- بھگوان کيسے انکے گلے ميں بولتا تھا سب محسوس ہو جاۓ گا- ايسا فنکار صديوں ميں مشکل سے ديکھا جاتا ہے- خدا انکی مغفرت فرماۓ-

Syed Javed، New York

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/14/12 5:31 PM GMT

ايک عظيم گلو کا ر تھے- اُردو کے سر کا تا ج تھے ، ہم نے بہت اچھا انسان کھو ديا مہدی حسن کی طرح نا کوئی تھا ناکوئی ھوگا غز ل ييتيم ھو گئ۔

ايکMr. Jawed Syed، Toronto

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/14/12 4:13 PM GMT

يوں تو مہدی حسن کے تمام گانے ہی لاجواب ہيں- تاہم انکی کی ايک غزل ”اپنوں نے غم دیے تو مجھے ياد آگيا اِک اجنبی جو غير تھا اور غمگسار تھا” سن کر آج آنکھيں ہی بھر آئيں اللہ ان کو اپنے
جوارِ رحمت ميں جگہ عطا فرماۓ آمين-

فيصل صديقی، کراچی

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/14/12 3:40 PM GMT

بہت دلکش آواز

iram، paris

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/14/12 3:02 PM GMT

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبز نو رستا اس گھر کی پاسبانی کرے

ali، Adelaide Australia

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/14/12 2:58 PM GMT

موسيقی کا ايک باب آج ختم ہوگيا بچپن سے جِس آواز کو سُنتے ہُوۓ ہم بڑے ہُوۓ آج وُہ آواز خاموش ہو گئ اِتنی بے شُمار ياديں ہيں ہر گيت ہر نغمہ اپنے ساتھ يادوں کا خزانہ لِۓ ہُوۓ ہے اُن کی وفات کا سُن کر بہُت تکليف ہُوئ اللہ کريم اُن کے درجات بُلند کرے آمين ايک نغمہ بار بار ياد آ رہا ہے جب کوئ پيار سے بُلاۓ گا تُم کو ايک شخص ياد آۓ گا ہر صِنف ميں اُن کو کمال حاصِل تھا گائيکی کے حقيقی معنوں ميں شہنشاہ تھے ميں نے تو اپنے گھر ميں اُن کی آواز کو ديوانگی کی حد تک پسند کرتے ديکھا ہے-

shahidaakram، abudhabi uae

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/14/12 2:50 PM GMT

ديکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
يہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

بونگا جی

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/14/12 12:48 PM GMT

ايک عظيم گلو کار جن کو ساٹھ کی دہا ئی سے سننا شروع کيا-خدا اُنہیں غريق رحمت کرے-آمين-

مخزن اسرار احمد، رياض

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/14/12 12:42 PM GMT

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو شہید دَور میں مولانا کوثر نیازی نے بلوچستان میں ایک پروگرام میں مہدی حسن کی گائیگی کے بارے ایک شعر کہا:
بے ساختہ پکار اٹھی انجمن تمام
فن آپ ہی پہ ہوگیا مہدی حسن تمام
اس شعر پر کچھ افراد نے اعتراض کیا تو مولانا نے کہا کہ ہمسایہ ملک بھارت کے اعلی فنکار مہدی حسن کے لیے کہتے ہیں کہ ان کے گلے میں بھگوان بولتا ہے اور وہ مہدی صاحب کو موسیقی کی دنیا کا اوتار سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے ہی وطن کے اس فنکار کو وطن ہی میں نظرانداز کر دیں، یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔

نجيب الرحمٰن سائکو، *** L@H()RE *** [{( پاکستان )}]

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/14/12 7:25 AM GMT

رفتہ رفتہ وہ ميری ہستی کا سامان ہو گئے

Muhammad Ali، Karachi

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 6/14/12 6:26 AM GMT

عملاً گائیکی سے الگ ہونے کے باوجود مہدی حسن ايک بہت بڑا سرمايہ تھے- وہ ہمارے دلوں کو چھو ليتے تھے- وہ بہت ياد آئيں گے۔ ہم مہدی حسن صاحب کا متبادل نہ ڈھونڈ پائيں گے۔

تحسين اللہ جان، پشاور پاکستان

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔