رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

سماجی ویب سائٹس کی نگرانی

برطانوی حکومت نے انٹرنیٹ پر سماجی تعلقات کے لیے فیس بک جیسی ویب سائٹس استعمال کرنے والوں کے رابطوں کی تفصیلات جمع کرنے کے لیے ان کی نگرانی کی ایک تجویز پیش کی ہے۔

دفتر داخلہ کا کہنا ہے کہ مجرموں اور شدت پسندوں کی نگرانی کے لیے ،جو اس طرح کی ویب سائٹ کا استعمال کر سکتے ہیں اس قسم کے اقدام کی ضرورت ہے۔ لیکن دفتر خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بات چیت کے مواد کو اپنے پاس نہیں رکھیں گے۔

لیکن سول لبرٹی گروپوں نے حکومت کی اس تجویز کی مخالفت کی ہے اور اسے جاسوسی کے ایک چارٹر سے تعبیر کیا ہے۔

تفصیل کے لیے یہاں کلک کریں

اس طرح کے اقدامات سے انٹرنیٹ کی آزادی اور پرائیویسی پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ آپ کے خیال میں کیا یہ واقعی ایک طرح کی جاسوس ہے؟ کیا اس قسم کے اقدامات سے جرائم اور دہشت گردی کے وقعات کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے؟ لوگوں میں ان سماجی ویب سائٹس کا استعمال فیشن ہے یا ضرورت؟ اس قسم کی ویب سائٹس نے آپ کی زندگی پر کیا اثر ڈالا ہے؟

(ازراہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ تبصروں کی تعداد بڑھ جانے کے سبب صرف اردو میں ٹائپ کی جانے والی آراء شائع کی جائیں گی۔ اس کے لیے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 3/25/09 12:08 PM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:65

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 3/27/09 2:52 PM GMT

اس طرح كے اقدامات سے کچھ نيا ہونے والا نہيں۔

Hammad ur Rehman، Faisalabad، پاکستان

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/26/09 2:56 PM GMT

فيس بک تو دور کی بات ہے ذرائع ابلاغ پر رائے عامہ کے فورم جنہيں شرکاء کرام کمال سنجيدگي سے ليتے ہوئے بارہا دست و گريباں بھي نظر آتے ہيں، ان کا خرچ کون اٹھا رہا ہے اور کيا ان کا مقصد محض تفنن طبع ہے ؟
اے رضا
وُہ بات تو شايد ہمارے شُرکاء اپنی بات منوانے کے لِیے کہتے ہوں گے رضا بھائی ليکِن مُجھے تو يہ سوچ کر ہنسی آ رہی ہے کہ اب يہ گورے ہم سے اِتنے ڈر گئے ہيں کہ فيس بُکس بھی چيک ہوں گی۔ کر ليں چيک کوئی بات نہيں ويسے کِسی دہشت گرد کو پکڑنے کا يہ طريقہ کُچھ عجيب نہيں۔ بندہ پُوچھے اگلے کيا پاگل ہيں يا؟

مسز شاہدہ اکرم، ابُوظہبی، متحدہ عرب امارات

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/26/09 1:39 PM GMT

گلا بھی کاٹتے ہيں اور خطرہ بھی کوئی نہيں، حيرت ہے۔
محمد انس علی رضا، پاکستان

گلے کاٹنے والے امريکی ايجنٹوں کے دن تھوڑے ہيں۔ اسلام کو بدنام کرنے والوں کا انجام دنيا ديکھے گي۔اور ان نام نہاد ’طالبان‘ کا نام لے لے کر مسلمانوں اور اسلام کو طنز و مزاح کا نشانہ بنانے والوں کو منہ چھپانے کی جگہ بھی نہيں ملے گي۔

اعجاز اعوان، کراچی، پاکستان

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/26/09 1:17 PM GMT

جب ان دہشتگردوں کی سرکوبی کی جاتی ہے تو ان کے سرپرست ’سب مسلمانوں پر حملہ‘ کا پروپيگنڈہ شروع کر کے دہشتگردوں کی ٹانگيں اسلام کے کمبل ميں گھسيڑنے کي کوشش کرتے ہيں اور ساتھ ساتھ ان دہشتگردوں کے ہاتھوں بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کی تحريری يا تقريری وکالت بھی کرتے ہيں۔ يہ سرا سر منافقت اور عياری ہے۔
مزمل خان
اور مزيد يہ کہ تقريباً سارے ہی ايسے منافق مسلمان خود بشمول فيملی کے رہتے اور مستفيد مغرب کی ہی سہولتوں سے ہوتے ہيں۔

sana khan، karachi

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/26/09 1:17 PM GMT

انہی لوگوں کی بمباری سے روزانہ بیسیوں مسلمان زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ان کے بارے میں کوئی سوچنے والا نہیں اور نہ کوئی پوچھنے والا۔اور ان لوگوں کے ہاں معمولی سا بھی اگر کچھ ہو جائے تو واویلا ہم پاکستانی لوگ ہی کرتے ہیں۔ مجھے تو اپنے پیارے ہم وطنوں کی یہ حرکت بالکل سمجھ نہیں آتی۔

جمیل احمد خٹک، کوہاٹ، پاکستان

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/26/09 12:20 PM GMT

آداب عرض! اگر برطانيہ يا کوئی بھی رياست ويب سائٹ کی نگرانی کرنا چاہتے ہيں تو ہميں کيا مضاحقہ؟ چور کو سپاہی سے ڈر لگتا ليکن سادہ تو خوش باش رہتا ہے۔ دوسری بات يہ کہ جرم کا سراغ لگانے کے لیے جب چاہيں پوليس اختيارات حاصل کر ليتی ہے لہٰذا ويب سائٹ کی نگرانی کوئی خاص بات نہيں۔ تيسرا يہ کہ يہاں پر انسانی حقوق کی تنظيميں ہمارے حقوق کی پہرے دار ہيں اور غريب اور کمزور کے حقوق کو ہميشہ سر فہرست رکھا جاتا ہے اور ضرورت مند سب سے ضروري۔ بے فکر رہيں۔۔ شکريہ

وکٹر بھانا، Toronto، کینیڈا

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/26/09 11:43 AM GMT

شکر ہے کہ بی بی سی نے بھی عرصہ دراز کے بعد پاکستان، اسلام، طالبان، زرداری، شریف کو چھوڑ کر اپنے ’گھر‘ کی بھی ’آپ کی آوا ز‘ میں خبر لی۔ اُمید ہے کہ یہ سلسلہ کچھ عرصہ چلتا رہے گا۔

محمود بٹ.، بلنسیہ، ہسپانیہ

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/26/09 11:19 AM GMT

ان کا خوف ان سے يہ سب کچھ کرا رہا ہے۔

اياز خان زمری، موساخيل

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/26/09 11:14 AM GMT

ميرا خيال ہے کہ اگر اس کا مقصد سماجی تنظيموں کو سدھارنا ہو تو بہتر ورنہ تو نگرانی کی بات اس ليے سمجھ سے باہر ہے کہ اس دور ميں بدلہ لينے کا دوسرا نام نگرانی ہے جيسے ڈاکٹر قدير کو مشرف نے حفاظتی نگرانی ميں رکھا۔

Raja Saboor، Islamabad

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/26/09 11:00 AM GMT

برطانيہ اپنے تحفظ کے لیے ويب سائٹس کی نگرانی تک کی تجويز فراہم کرتا ہے، جبکہ ہم اپنی سرحدی حدود کی نگرانی تک کرنے ميں ناکام ہيں۔۔

ماريہ خان، کراچی

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/26/09 10:43 AM GMT

ارے جی فرق پڑے گا بھی کيسے امريکہ کی ساری ’معيشت‘ تو ’طالبان‘ کو مضبوط بنانے ميں لگی ہوئی ہے اسی لیے تو گلے کاٹنے والے ’طالبان‘ دن بدن طاقتور ہو رہے ہيں۔
اعجاز اعوان، کراچی، پاکستان

ہو سکتا ہے برطانيہ کو اپنے ملک ميں موجود کچھ دہشتگرد گروپوں سے اس طرح کا کوئی خطرہ ہو (آئیر لينڈ کی مشہور زمانہ تنظيميں) مگر جناب ہميں طالبان سے ايسا کوئی خطرہ نہيں۔
اعجاز اعوان، کراچی، پاکستان

گلا بھی کاٹتے ہيں اور خطرہ بھی کوئی نہيں، حيرت ہے۔

محمد انس علی رضا، پاکستان

تجویز کنندہ 14 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/26/09 10:16 AM GMT

برطانیہ یا کوئی اور ملک اس طرح کی سائٹس کی نگرانی کرے یا نہ کرے، میرے خیال میں دہشتگردی کی روک تھام اس وقت تک نہیں کی جا سکتی جب تک سب لوگوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق نہیں دیئے جاتے۔ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک بند کیا جائے۔

seo tips، Faisalabad

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/26/09 8:44 AM GMT

سماجی ویب سائٹس کا استعمال نہ فیشن ہے نہ ضرورت، بلکہ صرف تفريح کے حصول کا ذريعہ ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے يہ تجويز محض ايک شوشہ ہے۔

ماريہ خان، کراچی

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/26/09 8:43 AM GMT

سب سے پہلے تو define کريں کہ دہشت گرد کون ہے۔ وہ جو گھر ميں سوئے ہوئے لوگوں پر بلنديوں سے بم برسا کر شہيد کرتا ہے يا اپنے مقتولين کا انتقام ليتا ہے۔

محمد اشرف، فيصل آباد

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 3/26/09 6:56 AM GMT

برطانوی فيصلہ انتہائی غلط ہے۔ سماجی انصاف کے خلاف ہے۔ عام شہريوں کے بنيادی حقوق سلب ہوں گے۔ فيس بک ايسا مقام ہے جہاں سب ہی آزادی سے اپنے عزیزوں اور ساتھيوں سے مسلسل رابطے ميں رہتے ہيں۔ برطانيہ کے اس فيصلے کے خلاف عالمی عدالت ميں کارروائی کی ضرورت ہے۔

Mohammed Farzan Ahmed، Hyderabad

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔