رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

پاکستان میں اقلیتوں پر تشدد

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کی جیل میں قید وہ مسیحی نوجوان پراسرار حالات میں ہلاک ہوگیا ہے جسے سمبڑیال میں مسلمان اور مسیحی افراد کے درمیان کشیدگی کے بعدگرفتار کیا گیا تھا۔ علاقے میں مسلمانوں اور مسیحی افراد کے درمیان کشیدگی کے نتیجے میں مشتعل افراد نے ایک چرچ کو بھی آگ لگا دی تھی۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ اگست کے شروع میں صوبہ پنجاب کے ہی ضلع فیصل آباد کی تحصیل گوجرہ میں مسلم عیسائی فسادات میں آٹھ عیسائی ہلاک اور بیس کے قریب افراد زخمی ہوگئے تھے۔ گوجرہ میں پیش آنے والے واقع کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نےکہا تھا کہ جو قوانین مذہبی ہم آہنگی بڑھانے میں رکاوٹ ہیں ان کا ماہرین مل کر جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ اس معاملے کو کس طرح حل کیا جاسکتا ہے۔

آپ کے خیال میں کیا پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے؟ کیا اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے حکومت خاطر خواہ اقدامات کر رہی ہے یا بات صرف کمیشنوں کی تشکیل اور تشویش کے اظہار تک ہی محدود ہے؟ آپ کیا کہتے ہیں؟

(ازراہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ تبصروں کی تعداد بڑھ جانے کے سبب صرف اردو میں ٹائپ کی جانے والی آراء شائع کی جائیں گی۔ اس کے لیے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 9/17/09 11:59 AM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:55

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 9/18/09 1:14 PM GMT

اگر ہمارا مذہب ہميں يہ کہتا ہے کہ ہم ساری دنيا پر اسلام کے غلبے کے لیے کام کريں تو ان حالات ميں ايسا ہی ہوگا۔۔۔ Ali Jan، Lahore

ميرے بھائي! اسلام کا مطلب ہے ’سلامتی اور امن‘۔ اب اگر ہر کوئی ’مولوی اور مفتي‘ بن کر اسلام کے سچے روپ کو چھپا کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے لوگوں کو بےوقوف بناتا ہو تو اس ميں مذہب کا کيا قصور ہے؟

ايس اے سعيد، Nottingham، برطانیہ

تجویز کنندہ 13 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/18/09 12:57 PM GMT

جنگل کا قانون جہاں بھی ہوگا اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔

Sajid Mian، Brampton Canada

تجویز کنندہ 7 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/18/09 12:03 PM GMT

ہميں اصل حقيقت معلوم ہونی چاہيے اور اس کے ليے علی سلمان کا (توہینِ قرآن یا کچھ اور) مطالعہ کريں۔

Arif Hussain، Kuwait

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/18/09 11:57 AM GMT

گورنمنٹ کو اس جہالت سے نپٹنے کے ليے وہی قوانين بناننے پڑيں گے جو کہ ترقی يافتہ ملکوں ميں ہيں يعنی مجرم کو مارنے والا بھی مجرم ہوگا اور اس کو ضمانت بھی نہيں ملے گي۔ علی گل، سڈنی

ہر کام حکومت پر ڈال دينا زيادتي ہے، معاشرے ميں جب تک حقوق العباد نہيں عام ہوگا ايسے واقعات ہوتے رہيں گے۔

sana khan، karachi

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/18/09 11:54 AM GMT

ہم پاکستانی ہیں اور اس ملک سےمحبت کرتے ہیں۔ یہ ہمارا پیارا ملک ہے۔ ہم یہیں پیدا ہوئے، یہیں مریں گے۔ سو ہمیں امن اوریکجہتی سےیہاں رہنے دیں۔ ہم تمام قسم کے دہشت گردانہ واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔۔۔ Emmuanuel Ather Julius Central...، Francis abad Gujranwala

آپ کے جزبہ حب الوطنی کو سلام، رہی مذہب اسلام کے نام پہ خون کرنے والوں کی بات تو اسلامی تعليامات کے مطابق اللہ تعاليٰ اپنی تمام تخليق سے محبت کرتا ہے اور اللہ روز حشر اپنے حقوق تو معاف کر دے گا مگر دوسروں کے حقوق کي معافي نہيں ہوگی۔

وحید عبدالوحید

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/18/09 11:21 AM GMT

ايک مخصوص ٹولہ جس کو ضيا کے دور ميں سعودی عرب کے حکم پر پزيرائي ملي اور پھر ديکھتے ہي ديکھتے وہ پاکستان کے ہر حلقے پر حاوی ہوگيا وہ اقليتوں اور مسلمانوں کے قتل عام ميں ملوث ہے۔ اقليتيں تو پھر بھی اس ظالم اور منافق ٹولے کے ظلم کا شکار بہت کم بنتی ہيں، ان منافقوں کا اصل شکار تو بےگناہ مسلمان ہی ہيں۔ کوہاٹ کا تازہ واقعہ اس کی ايک مثال ہے۔۔۔

مزمل خان

تجویز کنندہ 8 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/18/09 11:19 AM GMT

اگر ہمارا مذہب ہميں يہ کہتا ہے کہ ہم ساری دنيا پر اسلام کے غلبے کے لیے کام کريں تو ان حالات ميں ايسا ہی ہوگا۔۔۔

Ali Jan، Lahore

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/18/09 11:11 AM GMT

ايسا قانون ہي ختم کر دينا چاہيے جو غريب، بےبس ومجبور اقليتوں کے خلاف صرف ذاتی دشمنی نکالنے کا جائز قانونی ذريعہ ہو۔ پنجاب ميں جنگل کا قانون ہے۔ خدا نہ کرے کبھی پورے پاکستان ميں پنجاب جيسی حکومت قائم ہو۔ ہمارے حکمرانوں کو شرم آنی چاہيے کہ خود تو غيرمسلم ممالک ميں ساری انکی سہولتوں سے لطف اندوز ہوتے ہيں ليکن اپنے ہی ملک ميں اقليتوں کے لیے آواز تک نہيں اٹھاتے۔

sana khan، karachi

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/18/09 10:55 AM GMT

جب انصاف کرنے والا اور پوچھنے والا کوئی نہ ہو تو اس طرح تو ہو گا ہی۔ دنيا ميں کہیں بھی ديکھ ليں اسرائيل، کشمير، افعانستان، عراق، بوسنيا وغيرہ جب تک عالمی ٹھيکيدار اپنی ٹھيکيداری بند نہیں کريں گے اس وقت تک اسی طرح ہوتا رہے گا۔۔۔

Nadeem، Sialkot

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/18/09 10:17 AM GMT

پاکستان ميں اقليتوں پر اتنا تشدد نہيں ہوتا جتنا بی بی سی اردو شو کرنا چاہتا ہے۔ اکمل نذير، ہالينڈ

ايک بات تو صاف نظر آ رہی ہے کے چند گھروں پر مشتمل گاؤں کے مسئلے کو ميڈيا بڑھا چڑھا کر پيش کرنے ميں پيش پيش ہے۔ اعجاز اعوان، کراچی، پاکستان

ايک بات اور بھی صاف نظر آ رہی ہے کہ جب بی بی سی امريکہ کے مظالم، يورپ ميں مسلمان عورتوں کے پردے اور مسلمانوں کے دوسرے حقوق پر بات اور صيہونيت کے پول کھولے تو اس سے زيادہ غيرجانب دار ميڈيا دنيا بھر ميں نہيں ليکن اگر يہی بی بی سی آئينہ ميں چہرہ دکھا دے تو۔۔۔

وحید عبدالوحید

تجویز کنندہ 9 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/18/09 10:16 AM GMT

پاکستان میں اقلیتوں پر ظلم و جبرکی ابتدا ان ملاوؤں نے قائد اعظم کی رحلت کے فوراََ بعد ہی شروع کر دی تھی۔ یہ پاکستان دشمن عناصر آہستہ آہستہ زہر گھولتے گئے۔ پاکستان بننے کے بعد جو بدنام زمانہ پر تشدد تحریک اقلیتوں کے خلاف چلی وہ 1953 میں احمدیوں کے خلاف تھی۔ اس تحریک کی تاریخ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس تحریک کے روح رواں وہ مُلا طاقتیں تھیں جو پاکستان کی ’پ‘ بننے کی مخالف تھیں۔ اور پاکستان میں امن و امان نہیں چاہتی تھیں۔

محمود بٹ.، بلنسیہ، ہسپانیہ

تجویز کنندہ 8 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/18/09 10:06 AM GMT

مجرم اتنی دير مجرم نہيں ہوتا جب تک عدالت اس کا حکم نہ دے جبکہ ہم لوگ مجرم کو خود ہی سزا دينا شروع کر ديتے ہيں جو کہ غير انسانی فعل ہے۔ گورنمنٹ کو اس جہالت سے نپٹنے کے ليے وہی قوانين بناننے پڑيں گے جو کہ ترقی يافتہ ملکوں ميں ہيں يعنی مجرم کو مارنے والا بھی مجرم ہوگا اور اس کو ضمانت بھی نہيں ملے گي۔

علی گل، سڈنی

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/18/09 9:53 AM GMT

حکومت اقدامات تو تب کرے اگر نيم ملا اور ان کو ماننے والے غير تہذيب لوگ ان اقدامات کی حمايت کريں۔ نئے قوانين بنا کر آ بيل مجھے مار والی بات شروع ہوجائے گی کيونکہ ان لوگوں کی تعداد اقليتوں کے مقابلے ميں کہيں زيادہ ہے جو لڑائی اور بدامنی کو اپنا مذہب سمجھتے ہيں۔ تاہم حکومت کو کم ازکم يہ قانون تو بنانا ہی پڑے گا کہ کوئی بھی قانون اپنے ہاتھوں ميں نہ لے، يعنی اگر کوئی چور يا کسی طرح کا بھی مجرم لوگوں کے ہاتھ آتا ہے تو اس کو مارنے والے کو بھی سزا ملے کہ مارنا اس کا کام نہيں بلکہ عدالت کا کام ہے۔

علی گل، سڈنی

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/18/09 9:45 AM GMT

ميں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ اگر انڈيا ميں يا دنيا کہ کسی اور جگہ ميں مسلمانوں يا کسی اور مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں تو نہ تو وہ خبر ميڈيا کی زينت بنتی ہيں اور نہ ہی بی بی سی اردو سروس اُس کو اپنے اخبار ميں شائع کرتا ہیں۔

Khurshid Afridi، Dubai، برطانیہ

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/18/09 9:29 AM GMT

اگر عمال کے مطابق شکل بدلتی تو آدھے سے زيادہ آدمی جانوروں کی شکل ميں ہوتے، بہت کم شير کی شکل ميں۔۔۔ چلتے پھرتے زيادہ تر آدمی انسان نہيں حيوان ہيں اور حيوانوں سے خير کی توقع کرنا ہماری بے وقوفی ہے۔ ان سے بچاؤ ہم نے خود کرنا ہے اور حکومت بھیڑیوں کی ہے۔۔۔

Hayat، islamabad

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔