رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

غیر قانونی تارکین وطن کو پناہ

فرانس میں پولیس نے بندرگاہ کیلے کے قریب غیر قانونی تارکین وطن کی عارضی جھونپڑیاں گرا دی ہیں۔ کیمپ میں رہنے والے تارکین وطن میں سے زیادہ تر کا تعلق افغانستان سے ہے۔

دو ہفتے قبل برطانوی بارڈر ایجنسی نے فرانس کی سرحد پر ایک ٹرک سے اٹھارہ غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑا تھا جن میں سولہ افغان اور دو عراقی تھے۔

تارکین وطن کے لیے کام کرنے والی کچھ تنظیموں نے برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ انگلش چینل کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے کچھ تارکین وطن کو پناہ دے جبکہ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اسے ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

آپ کے خیال میں کیا ان کیمپوں میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد کی وجہ وہاں کی صوتحال ہے؟ کیا یورپی ممالک اس قسم کے کیمپوں کو ختم کرنے میں حق بجانب ہیں؟ اس جانب ان ممالک کی امیگریشن پالیسی کیا ہونی چاہیے؟ کیا آپ اپنے ملک کو خیر آباد کہنا چاہیں گے؟ اگر ہاں تو کیوں، نہیں تو کیوں نہیں؟ خود اپنے ملک میں تارکین وطن کے بارے میں آپ کا کیا رویہ ہے؟

(ازراہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ تبصروں کی تعداد بڑھ جانے کے سبب صرف اردو میں ٹائپ کی جانے والی آراء شائع کی جائیں گی۔ اس کے لیے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 9/22/09 11:30 AM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:22

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 9/29/09 9:13 AM GMT

جب دنیا بھر میں پیسے کی منتقلی اور مصنوعات کی تجارت پر کوئی پابندی نہیں تو انسانی محنت پر پابندی کیوں؟ دنیا کے ہر ملک کے شہری کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ جس ملک میں بھی جا کر کام کرنا چاہے، اسے اس کا حق حاصل ہے۔’گلوبل وِلج‘ کے شہریوں کو خار دار تاروں، مشکوک علاقوں کے ڈبوں میں قید رکھنا انسانیت کی توہین ہے۔

Athar Massood Wani، Rawalpindi

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/23/09 11:08 AM GMT

جس طريقے سے لوگ کشتی کے ذريعے سمندر پار کرتے ہيں يا ايک ٹرک کے اندر سينکڑوں گھس کر کئی دنوں يا مہينوں تک سفر کر کے پہنچتے ہيں تو بنيادی طور پر وہ کئی غير سرکاري عالمی ريکارڈ بناليتے ہيں۔ ايسے ميں ان کی حوصلہ افضائی کے ليے اگر پناہ نہيں دينی تو کم از کم کوئی ميڈل دے کر ہی واپس بھيج ديا جائے تاکہ وہ اسے بيچ کر ايجنٹوں پہ خرچی ہوئی رقم تو واپس لے ليں۔

علی گل، سڈنی

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/23/09 7:05 AM GMT

اصل ميں تيسری دنيا کی پسماندگی کی اصل وجہ يورپ اور امريکی حکومتوں اور ان کی کپمنيوں کی لوٹ کھسوٹ ہے اور اس کا ردعمل يہ ہے کہ ان پسماندہ ممالک کے لوگ ہر جائز اور ناجائز طريقے سے وہاں جانا چاہتے ہيں۔ مغربی ممالک کی چکا چوند روشنی اصل ميں ہمارے ملکوں ميں لگی آگ کی وجہ ہے جو ان مغربی ممالک نے لگائی ہے۔

[riazfarooqui]

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/23/09 4:21 AM GMT

ہر سال ہزاروں پناہ گزين سمندر يا خشکی کے راستے مختلف جگہوں سے ہوتے ہوئے يورپی يونين کے ملکوں ميں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہيں۔ یورپی ممالک اس قسم کے کیمپوں کو ختم کرنے میں حق بجانب ہيں۔

مر يم فا ئزہ

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/23/09 4:16 AM GMT

آداب عرض! جو لوگ يہاں پر غير قانونی تارکين وطن کہلاتے ہیں، اپنے آبائی ديس ميں لاکھوں روپے ادا کر کے يہاں تک پہنچتے ہیں اور اپنے آپ کو مصائب ميں گھرا ہوا پاتے ہیں۔ مطلب يہ ايسے لوگ ہیں جو اپنے ديس ميں عموماً کھاتے پيتے طبقے سے تعلق رکھتے ہيں۔ ان ميں جو لوگ پناہ لينے ميں کامياب ہوتے ہیں وہ اپنے گھر والی چوھدراہٹ نہ ملنے پر (کيونکہ قابليت کی بات) مايوس ہو کر ايک تو ويلفيئر پر زندگی گزارتے ہیں بلکہ يہاں کے معاشرے کی عام طور پر مخالفت بھی اور پراپیگنڈہ خوب کرتے ہيں۔ مغرب کو چاہیے کہ ان پر قانونی چارا جوئی ضرور، سخت کرے ۔ ۔شکريہ

وکٹر بھانا، Toronto، کینیڈا

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/23/09 4:06 AM GMT

برطانیہ يا فرانس ميں غیر قانونی طور پر مقيم تارکین وطن کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اگر وہ کسی طرح ان ممالک میں دس سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ گزار لیتے ہیں تو انہیں وہاں قانونی طور پر مستقل رہائش کا حق مل جائے گا۔

مر يم فا ئزہ

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/22/09 7:38 PM GMT

پناہ دینی جاہیے۔

راجا نصہر، لندن

تجویز کنندہ 0 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/22/09 2:42 PM GMT

مغرب کے نام نہاد ترقی يافتہ ممالک نے صديوں ترقی پذير ممالک کے مادی و انسانی وسائل کو اپنی ترقی کی عمارت ميں مٹی اور گارے کے طور پر بے دردی سے استعمال کيا اور يہ استحصال اب بھی جاری ہے۔ ان ممالک کے تقريباً مفت کے مادی وسائل اور سستی ترين افرادی قوت نے ترقی يافتہ ممالک کی معيشت کو خوفناک حد تک وسعت دے دی ہے اور ترقی پذير ممالک وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ترقی کی دوڑ ميں بہت پيچھے رہ گئے ہيں۔ ترقی يافتہ اور ترقی پذير ممالک کے معيار زندگی کا فرق اس غير قانونی ہجرت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

طيب عباس، فيصل آباد، پاکستان

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/22/09 2:36 PM GMT

جہاں تک افغانستان کے غير قانونی تارکين وطن کا يورپ ميں پناہ کا تعلق ہے تو افغانستان کو اس حال ميں پہنچانے ميں امريکہ کے شانہ بشانہ يورپ کھڑا رہا ہے۔ تالاب ميں پتھر مارتے وقت تو سارے انجوائے کرتے ہيں۔ اب چھينٹوں سے کيسے بچ پائيں گے۔۔۔ غير مقامی لوگ ہميشہ جرائم ميں مقامی کی نسبت زيادہ ملوث ہوتے ہيں۔ پاکستان ميں سب سے زيادہ مہاجرين موجود ہيں اور سب سے برے حالات پاکستان کے ہی ہيں۔۔۔ وہی ملک بچ گئے جنہوں نے اپنی سرحديں بند کر ليں۔۔۔

اسماء، پيرس

تجویز کنندہ 9 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/22/09 2:22 PM GMT

تارکين وطن کی عارضی پناہ گاہوں کو ختم کرنا ہجرت کے عالمی مسئلے کا حل نہيں ہے۔ اگر ترقی يافتہ ممالک غير قانونی تارکين وطن کی ہجرت کو روکنا چاہتے ہيں تو انہيں ترقی پذير ممالک کی معيشت کی بہتری کے ليے نيک نيتی مدد کرنا ہوگی۔ ترقی پذير ممالک ميں پھيلی غربت اس ہجرت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

طيب عباس، فيصل آباد، پاکستان

تجویز کنندہ 12 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/22/09 2:21 PM GMT

اپنے وطن اور جائے پيدائش کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک ميں جا بسنا ايک تکليف دہ مرحلہ ہے۔ پھر بھی بعض حالات ميں ايسا کرنا بہتر ہوتا ہے۔ پر ديس ميں انسان غريب الوطن ہوتا ہے۔ مہذب دنيا کو ان کے ساتھ انسانی سلوک کرنا چاہیے۔ تارکين وطن کی عارضی جھونپڑياں گرانا ايک بےرحم عمل ہے۔

ضياء سيد

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/22/09 1:57 PM GMT

اگر ميرا رويہ ايسا ہو کہ ميں اپنے آپ کو اپنے ملک کی سوسائٹی ميں ان فٹ محسوس کروں تو يقيناً مجھے خود ہی ايسے ملک کی طرف چلے جانا چاہيے جو ميرے ليے موزوں ہو۔ اچھے مستقبل اور حالات کی بنياد پر وطن چھوڑنا غلط عمل ہے۔ ميرے وطن ميں لاکھوں تارکين وطن کا آنا اور اپنے آپ کو محفوظ سمجھنا ميرے ليے فخر کی بات ہے۔ پر اگر ان ميں سے کچھ لوگ ميرے وطن کی سلامتی اور امن کو چيلنج کريں تو يقيناً ضابطہ اخلاق اور قانون بنا کر ان کو کوئی اچھا تحفظ نہ دينا محسوس ہوتا ہے۔ کيمپوں اورجھونپڑيوں ميں پناہ دينے سے بہتر ہے انہيں ان کے ملک واپس بھيج ديا جائے۔

محمد راشد، جدہ، سعودی عرب

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/22/09 1:42 PM GMT

غير قانونی تارکين وطن کے ليے قانون نرم سے نرم تر ہونا چاہيے۔ پيسے کی بنياد پر ورک پرمٹ اور ويزے دينا انتہائی غلط بات ہے۔ قانون ايسا ہو کہ زبان اور رويہ جانچنے کے بعد ورک پرمٹ، ويزہ اور شہريت ملنی چاہيے، تاکہ کوئي بھي غير قانوني طور پر کہيں بھي جانے کا نہ سوچے۔ افغانستان کی صورتحال يقينا وہاں کے عوام کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اچھے مستقبل کے ليے کہيں بھی پناہ حاصل کر سکيں۔ کيمپوں کو ختم کرنا صحيح عمل ہے ليکن انہيں افراد کو شہری آبادی اور اچھے علاقوں ميں آباد کرنا ضروری ہے۔

محمد راشد، جدہ، سعودی عرب

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/22/09 1:33 PM GMT

تارکين وطن يورپی ممالک ميں کن مشکلات ميں سے گذر کر پہنچتے ہيں خدا ہی جانتا ہے۔ ايسے لوگوں کو پناہ دينا انسانی ہمدردی ہے۔ ويسے بھی تو لاکھوں غير قانونی تارکين يورپی ممالک ميں رہ رہے ہيں۔ کوئی اپنا ملک خوشی سے تو نہيں چھوڑتا۔ ايسی ہجرت کی کئی ناگذير وجوہات ہوتی ہيں۔ ويسے بھی ہمارے سياست دان عارضی يا مستقل ہجرت تو کرتے رہتے ہيں۔

Muneer Gill، Lahore، پاکستان

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/22/09 1:09 PM GMT

سب سے پہلے پاکستان کی بات اور وہ يہ کہ وہاں غير قانونی شہريوں کی بڑی تعداد موجود ہے ليکن ان کو چھپنے کی ضرورت نہیں پڑتي۔ ترقی يافتہ ممالک ميں قانون کی عملداری کے باوجود بڑی تعداد موجود رہتی ہے۔ اسکی بڑی وجہ ان ممالک کے مشکل اميگريشن قوانين ہیں۔ جو بذات خود انسانی سمگلنگ کی وجہ بنتے ہيں۔ زيادہ تر لوگ جو يہاں آتے ہيں انہوں نے اتنی رقم تو دی ہی ہوتی ہے کی وہ اس سے کم ميں قانونی طريقے سے بھی آ سکتے تھے، ليکن ان کو تو کوئی آسانی سے سفارت خانے کےقريب بھی جانے نہيں ديتا۔

کاشف چوہدری، کوريہ

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔