رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

عید سعودی عرب کے ساتھ؟

اے این پی کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر برائے ریلوئے حاجی غلام احمد بلور نے بدھ کو پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ ہر سال رمضان اور عید کے معاملے پر اختلاف سے بچنے کے لیے بہتر طریقہ یہی ہے کہ روزہ اور عید الفطر سعودی عرب کے ساتھ منانا چاہیے تاکہ یہ قضیہ ہی حل ہوجائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب سے مفتی منیب الرحمان مرکزی رویت ہلاک کمیٹی کے چئیرمین بنے ہیں اس کے بعد سے پاکستان میں کبھی بھی ایک دن رمضان اور عید نہیں منائی جاسکی ہے۔ دوسری طرف مفتی منیب الرحمان نے وفاقی وزیر کے الزامات پر سخت درعمل کا اظہار کرتے ہوئے جوابی الزام لگایا ہے کہ اے این پی قوم میں اختلاف پیدا کرنا چاہتی ہے۔

اس پر آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا وفاقی وزیر کی بات صحیح ہے؟

(ازراہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ تبصروں کی تعداد بڑھ جانے کے سبب صرف اردو میں ٹائپ کی جانے والی آراء شائع کی جائیں گی۔ اس کے لیے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 9/23/09 10:57 AM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:70

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 9/24/09 1:18 PM GMT

چاند تو سال ميں بارہ مرتبہ نمودار ہوتا ہے مگر چاند کے نظر آنے يا نا آنے پر اختلاف رمضان اور عيدالفطر پر ہی ہوتا ہے وجہ صرف مولوی حضرات کے مفادات ہيں۔ بہتر يہی ہے کہ اگر حکومت ان تاجر مولانا حضرات کو کنٹرول نہيں کر سکتی تو ہجری کيلنڈر کو سعودی کيلينڈر کے مطابق کر لے تاکہ ہر سال قوم ان مولوی نما تاجروں کی فتنا گری سے محفوظ ہو جائے۔

انور حسين

تجویز کنندہ 10 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/24/09 12:45 PM GMT

ہر چيز متنازعہ، چاند بھی عيد بھی۔ آخر متنازعہ کيا نہيں ادھر، اے اين پی مفتی صاحب کو قربانی کا بکرا بنا کر اپنا قبلہ درست کرنا چاہتی ہے۔

sana khan، karachi

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/24/09 12:00 PM GMT

۔۔۔تو پھر یوم آزادی بھی سعودی عرب کے ساتھ منانا بنتا ہے۔ کیا خیال ہے محترم سائکو صاحب؟ اسد مصطفیٰ

یومِ آزادی تب منایا جاتا ہے جب آزادی حقیقتاً ملی ہو۔ لہذا جو آپ اور آپ جیسے’نظریہ پاکستان‘ کے داعی یومِ آزادی ’جوش و خروش‘ سے مناتے ہیں وہ دراصل برطانیہ کے ہندوستان پر قبضہ سے ’اتفاق‘ کرتے ہیں۔ کیونکہ تقسیم سے برطانیہ ’معصوم‘ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ ہندوستان میں بطور ’منصف‘ رولے ختم کرنے کے لیے آیا تھا، منڈیاں تلاش کرنے نہیں۔ لہذا پہلے آزادی، اس کا مفہوم و فلسفہ پڑھیں پھر سعودیہ کیساتھ آزادی منانے یا نہ منانےکی بات کریں۔

نجيب الرحمان سائکو، *لاہور* [P@KI$T@N]

تجویز کنندہ 15 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/24/09 11:48 AM GMT

صوبہ سرحد ميں عيد کا چاند سعوديہ ميں چاند ديکھنے کے اعلان سے دو گھنٹہ پہلے اعلان ہو چکا تھا۔ اس بات سے يہ معلوم ہوتا ہے کہ سرحد ميں اور سعودی عرب میں چاند ديکھنے ميں کوئی اختلاف نہيں ہے اور سعودی، افغانستان، دبئی اور سرحد کے ساتھ عيد روزہ رکھنا چاہيے۔ يہ پورا جھگڑا ختم ہوجائے گا۔

محمدفايون، الرياض

تجویز کنندہ 17 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/24/09 11:42 AM GMT

پشاور سے لے کر کراچی تک گھڑی کے وقت ميں لگ بھگ کوئی آدھے گھنٹے کا فرق ہے، اس لحاظ سے تو عيد ايک ہی ہونی چاہيے۔ سعودی عرب کا وقت ہم سے دو گھنٹے پيچھے ہے۔ لہذا سورج غروب ہوتا ہوا پہلے ہميں نظر آتا ہے اور پھر سعوديہ والوں کو۔ اب وہی چاند جو ہميں يہاں نظر نہيں آتا يا ہم اجتماعی طور پر ديکھنا ہی نہيں چاہتے وہ چاند ٹھيک دو گھنٹے بعد سعوديہ ميں نظر آجاتا ہے۔ تو جناب چاند تو افق پر ہوتا ہے مگر بہت باريک جسے انسانی آنکھ سے ديکھنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ لہذا اگر عيد سعوديہ کے ساتھ ہو بھی جائے تو کوئی حرج نہيں۔

اعجاز اعوان، کراچی، پاکستان

تجویز کنندہ 19 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/24/09 11:30 AM GMT

جب پاکستان کا مطلع صاف ہے تو اس کو دوسرے ملک کے ساتھ عيد کرنا کيسے ٹھيک ہو سکتا ہے۔ سرحد والوں کو بھی اتحاد پر عمل کرنا چاہیے۔ ہر چيز ميں ان کا ملک سے اختلاف ہوتا ہے۔ آيا ايک صوبہ ٹھيک ہوسکتا ہے يا تين صوبے۔

ruwaiz، bradford

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/24/09 11:28 AM GMT

جس ملک میں رہتے ہیں اس کے چاند کے حساب کے مطابق عید کرنی چاہیے۔

عبداللھ، انگلیڈ

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/24/09 10:46 AM GMT

بلور صاحب کا خود کو اور اپنی پارٹی کو مذہبی ظاہر کرنے کا انداز ناقابل قبول ہے۔ وہ پاکستان کا پوری دنيا ميں مزيد مذاق بنوا رہے ہيں۔ جواب ميں مفتی صاحب بھی ہميشہ کی طرح صبر کا دامن چھوڑ چکے ہيں۔ بہرحال جب سلطنت عثمانيہ ميں ترکی کے چاند پر پوری دنيا ميں عيد ہوسکتی ہے، مشرقی پاکستان کے چاند پر مغربی پاکستان ميں عيد ہوسکتی ہے تو سعوديہ کے چاند پر عيد کيسے نہيں ہوسکتی۔ ياد رہے کہ پورے عرب ميں ايک ہی چاند پر عيد ہوتی ہے۔ مسئلہ دراصل يہ ہے کہ ہم معاملے کو سائنسی نقطۂ نظر سے ديکھتے ہيں جو درست نہيں۔

فیضان صديقی ,SINDH

تجویز کنندہ 22 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/24/09 10:44 AM GMT

ہلال کميٹی کے پورے سال کے چاند ٹھيک، صرف يکم شوال پر سعوديہ کی ياد کيوں ستاتی ہے۔ سوچنے کی بات ہے۔

تنوير اختر، فيصل آباد، پاکستان

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/24/09 10:29 AM GMT

اگر سعودی عرب کی تقليد کرنی ہے تو پھر نظام حکومت بھی بدليں۔ نمازوں کے اوقات بھی بدليں۔ وگرنہ سائنسی بنيادوں پر چاند کے ہونے يا نہ ہونے کو مان کر عيد منانی چاہيے۔ جب بول ديا تو بول ديا کی رٹ نہيں لگانی چاہيے۔

Mohammad Farooq، Lahore

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/24/09 10:25 AM GMT

بلکل ٹھیک رائے ہے۔ عید ایک دن ہی ہونی چاہیے۔

salman، lahore

تجویز کنندہ 8 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/24/09 10:23 AM GMT

کیا سیاستدان اور کیا ملا مفتی سب کے سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ دنیا کیا کر رہی ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں۔ عید تو مسلمانوں کی ہوتی ہے۔ جو کرتوت رمضان میں ہم نے کیے ہیں اس کے بعد بھی کیا ہم ہیں؟ کوئی مجھے ایک بات سمجھا دے کہ دنیا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ کا ٹائم کا فرق زیادہ سے زیادہ 12 گھنٹے کا ہے پھر یہ ہمارا چاند پورے 24 گھنٹے کے بعد کیون نظر آتا ہے؟

حافیظالرحمان، سوڈان

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/24/09 10:21 AM GMT

عيد ایک مذہبی تہوار ہے اور اسلام کسی رائے ’ووٹ‘ يا خيال کا تابع نہيں ہے۔ قرآن و حديث ميں اس کے بارے میں واضح حکم ہے کہ چاند ديکھنے پر عيد اور اسی طرح روزہ بھی۔ اس پر بلور يا کسی اور يا حکومتی کميٹی کی ضرورت نہيں۔

محمد علی، seoul، جنوبی کوریا

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/24/09 10:14 AM GMT

سعودی عرب کے ساتھ عيد کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور مسجد قاسم کے مفتی صرف عيد اور رمضان میں ہی خود چاند ديکھتے ہيں اور پورے سال مفتی منيب کے ديکھے ہوئے چاند کو مانتے ہیں۔ ہر مہينے ايسا مسئلہ کيوں نہیں ہوتا۔ بلور صاحب کی بات بے تکی ہے۔

اوِس الرحمن، کراچی

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/24/09 10:13 AM GMT

يہ سب علم کی کمی ہے۔ جب تک ہم اسلام سے روگردانی کرتے رہيں گے اسی طرح آپس ميں لڑتے رہيں گے۔ دوسرے تمام مسائل کی طرح اس مسئلے کا بھی حل ہے کہ ديکھا جائے اسلام کيا کہتا ہے اور جو لوگ عيد سعودي عرب کے ساتھ مناتے ہيں وہ گمراہی پر ہيں۔

پسم اللہ خان چنگوانی، ڈيرہ غازيخن

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔