رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

تین عورتیں سربازار برہنہ

لاہور کے نواحی علاقے پھول نگر میں مقامی دیہاتیوں نے تین خواتین پر جسم فروشی کاالزام لگا کر سزا کے طور پرانہیں سرعام برہنہ کیا اور ان کی پٹائی کی۔ مقامی پولیس نے بھی الٹا خواتین کو گرفتار کرکے ان کے خلاف جسم فروشی اور اس کا دھندا کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ تعزیرات پاکستان کے تحت کسی بھی خاتون کو سرعام برہنہ کرنے کی سزا موت ہے۔
تفصیل کے لیے کلک کریں
اس پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟

شائع شدہ: 9/28/09 11:38 AM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:132

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 9/29/09 4:21 PM GMT

ويسے اگر’غوطہ‘ لگا کر ديکھيں تو پاکستانی معاشرہ اب بھی ان بے راہرو معاشروں سے ہزار ٹائمز اچھا ہے جن کي ہر الٹی سيدھی حرکت کےگُن گانا کچھ ’ايکس پاکستانيوں‘ کا وطيرہ ہے۔
مزمل خان
آپ خود اچھے ہيں اِس لیے آپ کو يہاں سب کچھ اچھا دکھائی ديتا ہے۔ ذرا گہرائی ميں جا کر ديکھيں تو ہر قسم کی بے راہ روی اپنے وطن ميں بھی بدرجۂ اتم موجود ہے۔ ولایت کی کيٹ واک پر ہميں اعتراض ہے ليکن اپنے ہاں اسلام کے نام پر کیے گئے جرائم پر ہم خاموش رہتے ہيں۔

Sajjad Butt، Lahore، پاکستان

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/29/09 4:10 PM GMT

ايجنسيوں کی ايک نئی شيطانی چال ہے جس کا مقصد پنجاب کو کمزور کرنا ہے۔

Ali Ahmed Naqvi، Qum، ایران

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/29/09 3:42 PM GMT

اب اس ملک کی زمين بيچی جا رہی ہے۔
ضياء سيد

اور عوام خاموشی سے ديکھ رہی ہے۔ آخر جب سب کچھ ہو جاتا ہے تو ماتم کا کيا فائدہ؟ ميرے بھائی ايک آمر نو سال قابض رہا اور عوام جانتے بوجھتے بھی خاموش رہے اور جب سر پر پڑی تو سڑکوں پر نکل آئے اور قابض کو چند ماہ ميں ہی فارغ کر ديا گيا يعنی عوام اگر چاہے تو سب درست ہوسکتا ہے۔

فیضان صديقی ,SINDH

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/29/09 3:40 PM GMT

جب آپ لوگ اس ريوڑ کے ليے قوم اور معاشرہ جيسے الفاظ استعمال کرتے ہيں تو حيرت ہوتی ہے۔

hamid pasha

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/29/09 3:36 PM GMT

مبارک ہو طالبان نے سرحد کے بعد اب پنجاب ميں بھی بے بس عورتوں کو انصاف دلانا شروع کر ديا۔ اب ديکھيں کہ پنجاب کے بےحس حکمران کيا کرتے ہيں۔

فاروق، اوسلو

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/29/09 3:29 PM GMT

جب اسلامی ملک میں اسلامی قانون نہیں ہوگا اور حکمران جب تک فحاشی کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات نہیں کریں گے تو عوام اسی طرح قانون ہاتھ میں لیتے رہیں گے۔

nadeem، karachi

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/29/09 3:26 PM GMT

پاکستان کو بھی ايک Titanic جہاز بنانا چاہيے اور تمام تشدد پسند اور مذہب کے نام نہاد ٹھيکيداروں اور دعويداروں کو سوار کر کے موج سمندر کے حوالے کرنا چاہيے۔
Will، Kuwait

سمندر ميں بھی ان لوگوں کی تلاش جل پرياں ہی ہوں گی۔

sana khan، karachi

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/29/09 3:09 PM GMT

يہ ايک اسلامی جمہوريہ ہے اور اسلامی جمہوريہ ميں اس طرح کے المناک واقعات زيب نہيں ديتے۔
Sajjadul Hasnain، Hyderabad India

يہ اسلامی جمہوريہ ملک ہے تبھی تو ايسے واقعات رونما ہوتے ہيں۔

sana khan، karachi

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/29/09 2:49 PM GMT

يہ مجھے تو کسی ايجنسی کی چال لگتی ہے اور بی بی سی کو دہشت گردوں کو اسلحہ فراہم کرنے والوں سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہیے تاکہ کچھ تو آسان ہو آدم کا سفر ورنہ ۔۔۔

j`مطھر حسين، بارسيلو نا

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/29/09 2:37 PM GMT

يہ بڑا شرمناک واقعہ ہے ليکن اس واقعہ کا ردعمل سراسر غلط اور عورت کی عصمت کی مزيد تزليل ہے۔ اگر عورتيں گناہ گار تھيں تو ان پر قانونی کارروائی ہونی چاہيے تھی۔ حکومت کو امام مسجد اور دوسرے مشتعل افراد کو سخت سزا دينی چاہيے تاکہ آئندہ يہ لوگ ایسی شرمناک حرکت نہ کريں۔ ان لوگوں نے عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہيں کيا۔

محمدشہباز(نوشہرہ ورکاں ضلع گوج...، گاؤں فتح کی

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/29/09 2:33 PM GMT

اس واقع کے ذمہ دار افراد کو سر عام پھانسی پر لٹکايا جائے۔ متاثرہ عورتوں کو شرعی سزا دی جائے۔
ابوبکر، ساہيوال

ايک دفعہ ايسے غلط کام کرنے والے کو لٹکا ديں نا تو باقی لوگوں کو بھی سبق مل جائے کہ خود سے ہر کام کرنے والوں کا کيا انجام ہوتا ہے ليکِن اصل بات تو يہی ہے کہ ہم لوگ ہر کوئی ہی خود مختار ہے جو چاہے کر ڈالتا ہے۔ خود ہی انصاف کرنے ايسے چل پڑتے ہيں جيسے اِن سے زيادہ نیک چلن کوئی ہے ہی نہيں۔ شرم نام کی کوئی چيز گويا ہے ہی نہيں کِسی کے پاس۔

مسز شاہدہ اکرم، ابُوظہبی، متحدہ عرب امارات

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/29/09 2:17 PM GMT

برطانيہ ميں جو ’كيٹ والک‘ وغيرہ كے نام پر عورتوں كو برہنہ كر كے سينكڑوں لوگوں كے سامنے چلايا جاتا ہے، اس پر بی بی سی كب آواز اٹھا رہی ہے؟
Abdul Basit، سعودی عرب

کيٹ والک پاکستان ميں بھی ہوتی ہے، جسے صحیح يا غلط سمجھنا ہر انسان کا فطری حق ہے، ليکن کيٹ والک کا مقابلہ اس انسانيت سوز ظلم سے کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔
’ہلاکت خيز ہے الفت، ميری ہر سانس خونی ہے
اسی باعث يہ محفل دل کی، قبروں سے بھی سونی ہے‘

Hafeez Imran، toronto، کینیڈا

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/29/09 2:10 PM GMT

بھائی مسئلہ صرف ايک ہے کہ جب تک ان جاہل لوگوں کو تعليم نہيں دی جائے گی يہ شعور کی منزل تک نہيں پہنچ سکتے۔ ان کو عورت کی عزت کا کيا خيال۔ ان ميں زيادہ تر خاندانی دشمن ہوں گے۔ واہ رے پنجاب اور تيری وڈيرہ شاہی۔

RASHID، KARACHI

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/29/09 2:06 PM GMT

برطانيہ ميں جو ’كيٹ والک‘ وغيرہ كے نام پر عورتوں كو برہنہ كر كے سينكڑوں لوگوں كے سامنے چلايا جاتا ہے، اس پر بی بی سی كب آواز اٹھا رہی ہے؟
Abdul Basit، سعودی عرب

صاحب، وہ ’والک‘ زبردستی نہيں کروائی جاتی۔

عمر عنائت، لاہور، پاکستان

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 9/29/09 2:02 PM GMT

اس واقع کے ذمہ دار افراد کو سر عام پھانسی پر لٹکايا جائے۔ متاثرہ عورتوں کو شرعی سزا دی جائے۔

ابوبکر، ساہيوال ضلع سرگودھا

تجویز کنندہ 7 لوگ

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔