وقت ارسال :
10/3/09 2:26 PM GMT
آداب عرض! جو لوگ اتھليٹ بنتے ہیں ان ميں بہت ساروں کی نفسیات ميں تشدد کا عنصر زيادہ ہوتا ہے اور اسے منیج يا علاج کرنے کو انہيں اتھليٹ بنايا جاتا ہے۔ لہٰذا کھلاڑی کسی بھی کھيل کو کھيلے اس ميں سپورٹس مين شپ کا ہونا نہایت زيادہ مقصود ہے اور اگر ايسا نہ ہو سکے تو پھر تہذيب کے مقاصد پورے نہيں ہوتے۔ اس لیے ديکھنا يہ ہے کہ کس ٹيم ميں اعلٰی ترين پيشہ وارانہ قابليت اور تنظيم ہے، وہی جيتے گی اور وہی جیتنی بھی چاہیے کيونکہ بچوں پر ان کا بہت اثر ہوتا ہے۔ ہميں مستقبل ميں اچھے رول ماڈلز کی تلاش کرنی چاہیے۔ ۔ شکريہ
وکٹر بھانا، Toronto، کینیڈا