رسائی کے لیے لکنس

یہ تھریڈ آرکائیو میں شامل ہو گیا ہے۔ جوابات بھیجنے کی اجازت نہیں

پاکستان کے لیے برطانوی ویزہ پالیسی

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے برطانوی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی کاروباری طبقے اور طلبہ کے لیےاپنی ویزہ پالیسی کا ازسرے نو جائزہ لے۔ ان کا موقف تھا کہ برطانیہ کی نئی پوائنٹ بیسڈ ویزہ پالیسی کی وجہ سے درخواست گزاروں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم نے برطانیہ سے ویزہ درخواستوں کے جلد فیصلے اور ناکام درخواست گزاروں کو ان کی فیس واپس کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
تفصیل کے لیے کلک کریں

اس پر آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا آپ یا آپ کے چاہنے والے برطانیہ کی اس نئی ویزہ پالیسی سے متاثر ہوئے ہیں؟

(ازراہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ تبصروں کی تعداد بڑھ جانے کے سبب صرف اردو میں ٹائپ کی جانے والی آراء شائع کی جائیں گی۔ اس کے لیے آن سکرین کی بورڈ پر alt+shift دبا کر اردو سلیکٹ کریں)

شائع شدہ: 10/6/09 10:35 AM GMT

تبصرے

تبصروں کی تعداد:56

تمام تبصرے اپنی آمد کے حساب سے

وقت ارسال : 10/7/09 2:21 PM GMT

درست کہا۔ مگر ہميں ماضي ميں جا کر انگلينڈ و امريکہ والی حکمت عملی اور علم بھی سيکھنا ہوگا۔وحيد عبدالوحيد

کيا ہم بھی ان کو اپنی کالونی بنا سکتے ہيں؟ افسوس انہوں نے ٹيکنالوجی کے بل پر دوسری قوموں کو غلام بنا کر ان کا استحصال کيا ہے۔

ضياء سيد

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/7/09 2:15 PM GMT

اصل ميں پاکستان کو کم حيثيت کا ملک ثابت کرنا مقصود ہے تاکہ خطے ميں ہندوستان کی حيثيت مسلمہ کی جا سکے۔ مغربی سفارتکاروں کی کھلے عام غير قانونی سرگرمياں، سفارتخانے کے ہوتے ہوئے بھی ويزہ درخواستيں دبئی ميں وصول کرنا، کيری لوگر بل کے نام پر پاکستان کی توہين، مذمتي قرارداد کے باوجود ڈرون حملوں ميں اضافہ اور ميڈيا ميں ’پاک بھارت‘ کی بجائے ’پاک افغان‘ اصطلاح کا کثرت سے استعمال ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی حيثيت بھارت نہیں بلکہ افغانستان کے برابر لانے کے خفيہ منصوبے پر کام جاری ہے۔

احتشام فيصل چوہدری، شارجہ، متحدہ عرب امارات

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/7/09 1:24 PM GMT

کافی تجربہ کار معلوم ہوتے ہيں ميرے دوست۔۔۔! فیضان صديقی ,SINDH

تجزيہ کرنے کی بڑی مہرباني، بصارت اور سماعت اللہ کی دی ہوئی بڑی نعمتيں ہيں۔ اگر ان کو کھلا رکھا جائے تو بغير تجربہ کيے بھی بہت کچھ ديکھا اور سنا جا سکتا ہے۔ آزما کر ديکھ ليں، مايوسی نہيں ہوگی۔

rashid suhail، leeds، برطانیہ

تجویز کنندہ 6 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/7/09 12:23 PM GMT

ميں ان کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔

Asad، Abu Dhabi

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/7/09 11:39 AM GMT

کاغذی شادياں، اسايلم وغيرہ کے سہارے لينے پڑ جاتے ہيں۔ rashid suhail، leeds، برطانیہ

کافی تجربہ کار معلوم ہوتے ہيں ميرے دوست۔۔۔!

فیضان صديقی ,SINDH

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/7/09 9:23 AM GMT

پہلي بات يہ ہے کہ پاکستان ميں لوٹ گھسوٹ کر کے آنے والوں وڈيروں، جاگيرداروں، ڈکٹيٹروں، آمروں کے ليے ويزا پاليسی اور جبکہ عام پاکستانيوں اور طاب علموں کے ليے پاليسياں اور کيوں؟ دوسری بات کہ سول آمريت کے دور ميں وزيراعظم کی اپيل کی کيا حيثيت؟ برطانيہ سے ويزا پاليسی پر بات کرنے سے ضروری ہے کہ ان سے ہماری لوٹی ہوئی رقوم اور مجرمان واپس لينے پہ بات کی جائے۔ شکريہ۔

نثاراحمد جاويد، london، برطانیہ

تجویز کنندہ 7 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/7/09 8:03 AM GMT

صرف برطانيہ ہی نہيں بلکہ آسٹريليا اور کينيڈا نے بھی پوانٹس ميں اضافہ کيا ہے جس کی بڑي وجہ ہمارے کرتوت ہيں۔ باتيں اپنے نظريات اور سسٹم کی کرتے ہيں جبکہ پيسہ کمانے کے ليے کسی اور کے سسٹم کا سہارا لينے کی سوچتے ہيں۔ اسی طرح ميں نے بہت سے دوستوں کو ديکھا ہے روزہ رکھ کر وقت گزاری کے ليے انڈيا کی فلميں ديکھتے ہيں اور ساتھ ساتھ ان کو برا بھلا بھی کہتے ہيں۔ يعنی اپنے ليے سب جائز جبکہ دوسروں سے بھلائی کی توقع۔ حيرت ہے ان لوگوں پہ معذرت کے ساتھ۔۔۔

علی گل، سڈنی

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/7/09 7:01 AM GMT

يہ نئی پاليسی مارچ ہی سے شروع ہوگئی ہے۔ دراصل ان دنوں معاشی مندی کی وجہ سے مغربی ممالک زيادہ پريشان ہيں۔ ايسے ميں غير ملکی طلباء کے آنے اور جز وقتی روزگار سے جڑنے سے مقامی افراد کو دشواری ہو رہی ہے۔ اس ليے برطانيہ جيسے ممالک زيادہ تعداد ميں غير ملکی افراد کی آمد پسند نہيں کر رہے ہيں۔

Mohammed Farzan Ahmed، Hyderabad-India

تجویز کنندہ 4 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/7/09 1:19 AM GMT

صدر اور وزير اعظم صاحب کو چاہیے کہ برطانوی وزراء سے يہ بھی کہيں کہ برطانيہ ميں مقيم پاکستانيوں کی درخواستوں کا بھی جلد ازجلد فيصلہ کيا جائے۔۔۔ برطانيہ ايک نہايت ہی اچھا ملک ہے اور اميگريشن کے لحاظ سے بھی کافی بہتر ہے۔ يہاں انسان کی صحیح معنوں ميں قدر کی جاتی ہے۔ ميري دعا ہے کہ اللہ پاکستان ميں بھي برطانيہ کی طرح امن اور سکون رکھے۔ آمين۔

Choudhry Tabraiz، London

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/7/09 1:13 AM GMT

آداب عرض! وزير اعظم گیلانی نے وہ بات کہی ہے ’کہ اپنے گھر کو ہر کوئی سيانا‘۔۔۔ برطانوی حکومت کسی حد تک تو قوانين ميں نرمی کرے گی ليکن فيس واپس کر کے محکمہء اميگريشن کو اُجرتيں اپنے پلے سے ہرگز نہيں۔ جس طرح پاکستان کی حکومت کو اپنے عوام کے مفادات پيارے ہيں، يہاں کی حکومتوں کو بھی اپنے لوگوں کے مفادات اچھے لگتے۔ اس لیے اميگريشن اس اميد پر دی جاتی کہ آنے والا/والی انکے معاشرہ کو کُچھ فائدہ دے۔ ليکن سچ يہ ہے کہ بيشتر پاکستانی ان کی معیشت پر نہ صرف بوجھ بلکہ مخالفت کُھل کر کرتے، تو؟ شکريہ۔۔۔

وکٹر بھانا، Toronto، کینیڈا

تجویز کنندہ 5 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/6/09 10:32 PM GMT

آپ لوگ صبر کریں۔ يہ لوگ خود بخود اس سسٹم کو تبديل کريں گے۔ اس ملک کا زيادہ انحصار فارن سٹوڈنٹس پر ہے اور اس سال بہت کم سٹوڈنٹس آئے ہیں۔

Olamba Kha، London-Uk

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/6/09 9:26 PM GMT

ميں برطانوی حکومت سے صرف يہ پوچھتا ہوں کہ وہ برصغير ميں کون سا ويزہ لے کر آئے تھے؟ اسی طرح امريکہ والے بھی جہاں چاہيں جاتے ہيں اور پھر بغير اجازت رہتے ہيں، ليکن جب بات ان ملکوں پر آتی ہے تو قانون ياد آ جاتا ہے۔۔۔ کاشف چوہدری، کوريہ

درست کہا۔ مگر ہميں ماضي ميں جا کر انگلينڈ و امريکہ والی حکمت عملی اور علم بھی سيکھنا ہوگا۔

وحید عبدالوحید

تجویز کنندہ 1 شخص

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/6/09 7:55 PM GMT

اس رويے نے اسلام دوست اور دشمن ميں فرق واضح کرديا ہے۔ لہزا ميرے ہم وطن بھائيوں اپنے ملک ميں محنت کرو------ تاکہ دشمن تمھارےغلام ہوں۔ابو فدا

ابو فدا صاحب ذرا يہ تو بتائيں کہ آپ کو کتنی آسانی سے اسلامی ممالک کے ويزے ملتے ہيں۔ سعوديہ ميں کتنے لوگ ويزے کی خلاف ورزی کی وجہ سے جيلوں ميں ہيں۔۔۔ اور کتنے لوگوں کے پاسپورٹ ان کے کفيلوں کے پاس ہيں۔ کيا سعوديہ کی ويزہ پاليسی اسلام دوست ہے؟

Muneer Gill، Lahore، پاکستان

تجویز کنندہ 2 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/6/09 7:45 PM GMT

واہ بھئی واہ! ايسے ايسے تبصرے پڑھنے کو ملے ہيں کہ لگتا ہے کہ برطانيہ کوئی پاکستان کا صوبہ ہے اور برطانوی حکومت کو ہم سے پوچھ کر پاليسياں بنانی چاہئیں ـ اب وزيراعظم صاحب کو چاہيے کہ سعوديہ سے بھی ايسا ہی مطالبہ کريں۔ سعوديہ سے اسلامی بھائی چارے کے نام پرتو ويزہ بالکل ہی ختم کروانا چاہيے۔ شکريہ۔

Muneer Gill، Lahore، پاکستان

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

وقت ارسال : 10/6/09 7:32 PM GMT

سیاسی جماعتیں تک امریکہ سے ڈراون حملے بند کرنے کا مطالبہ کرتی رہی تھيں۔۔۔ نجيب الرحمان سائکو

ارے صاحب کہاں آپ ڈرون کو ويزا پاليسي سے ملا رہے ہيں۔ ويسے آپ کی تحرير سے ايسا محسوس ہوتا ہے کہ جناب پيپلز پارٹی اور اس کے صدر، وزيراعظم سے مايوس ہو چکے ہيں۔ مزيد يہ کہ ماضی ميں حکومت کی مداخلت پر ويزا پاليسی ميں تبديلی کی مثال بھی موجود ہے۔۔۔

فیضان صديقی ,SINDH

تجویز کنندہ 3 لوگ

شکایت کریں

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔